خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 311
خطبات طاہر جلد 14 311 خطبہ جمعہ 5 مئی 1995ء پڑتی ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: د یعنی وہ خدا جو واحد لاشریک ہے جس کے سوا کوئی بھی پرستش اور فرمانبرداری کے لائق نہیں ہے۔یہ اس لئے فرمایا کہ اگر وہ لاشریک نہ ہو تو شاید اس کی طاقت پر دشمن کی طاقت غالب آجائے اس صورت میں خدائی معرض خطرہ میں رہے گی۔(اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 372) یعنی اگر ایک کے سوا دو معبود ہوں تو کسی معبود کی خدائی کو بھی استقرار نہیں ہے اور قرآن کریم نے اسی مضمون کو لَفَسَدَتَا (الانبیاء: 23) کے تحت بیان فرمایا ہے کہ اگر ایک سے زیادہ معبود ہوں، الهَيْنِ (النحل:52) ہوں ، دو معبود ہوں تو یہ ہو نہیں سکتا کہ وہ آپس میں اختیار کی برتری کے لئے جنگ نہ کریں اور لازماً اس کے نتیجے میں فساد پھیل جائے گا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ خدا کی خدائی کا اعتماد اٹھ جاتا ہے کہ پتا نہیں رہے گی بھی کہ نہیں۔جس خدا کی ہم پرستش کر رہے ہیں اگر کوئی اور بھی ہو تو کیا پتا کہ کل کیا ہوگا تو اس لئے کسی معبود کی پرستش میں بھی یقین نہیں رہتا اور اطمینان اٹھ جاتا ہے۔تو یہ وضاحت فرمائی ہے اللہ تعالیٰ نے کہ تم مطمئن رہو میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے جس کی تم عبادت کر رہے ہو وہی ہے ، وہی تھا، وہی رہے گا ہمیشہ اور کوئی تبدیلی اس بات میں نہیں آئے گی۔اب یہ مضمون اگر ہم روز مرہ انسانی تعلقات کے دائرے میں سمجھیں تو اور زیادہ وضاحت سے اس کی اہمیت سمجھ آجاتی ہے۔ایسے ممالک جہاں آئے دن حکومتیں بدلتی رہتی ہیں وہاں کی سول سروس کے لئے بڑی مصیبت ہوتی ہے۔آج اس کی پرستش کریں تو کل دوسرے کی کرنی پڑے گی۔کسی کی نہ کریں اور وہ کل آجائے طاقت میں، تو وہ اپنے انتقام لے گا۔غرضیکہ جہاں بالا نظام میں افرا تفری ہو وہاں ماتحت نظام نیچے تک افراتفری کا شکار ہو جاتا ہے اور بدامنی جو ہے وہ ہر سطح پر اوپر سے چل کر آخری نچلی سطح تک ظاہر ہوتی ہے اور جگہ جگہ اس طرح آپس میں اختلاف کی دراڑیں پڑ جاتی ہیں ،ساری سوسائٹی درہم برہم ہو جاتی ہے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے یہی مضمون تو حید کی برکت کے تعلق میں بیان فرمایا ہے اور مومن کے لئے استقامت کا بہت بڑا اس میں پیغام ہے۔اگر یہ یقین ہو کہ یہی ذات ہے