خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 305 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 305

خطبات طاہر جلد 14 305 خطبہ جمعہ 28 اپریل 1995ء کا انتخاب بھی ہوگا تو جو نئے آنے والے ہیں اب ضرورت ہے کہ ان کی ٹھوس تربیت اس بات پر ایسی کی جائے کہ ساری دنیا کی جماعتوں کا ایک مزاج ہو جائے۔کالے اور گورے کا فرق ہی نہ رہے۔افریقہ امریکہ کی کوئی تمیز باقی نہ رہے۔مشرق اور مغرب ایک نور پر اکٹھے ہو جائیں یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کے نور کے اوپر جس کے متعلق قرآن فرماتا ہے لَّا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ ( النور : 36 ) وہ شرق کا ہے نہ وہ غرب کا ہے۔وہ سب کا سانجھا نور ہے۔صلى الله اس ضمن میں وہاں انتخاب کے متعلق کچھ اور ہدایتیں بھی دینے والی ہیں۔چندے کا نظام ابھی سب جگہ اس طرح مستحکم نہیں ہوا کہ سو فیصدی شرح کے مطابق دینے والے سب پیدا ہو جائیں لیکن چونکہ میں بہت زور دے رہا ہوں کہ نئے آنے والوں سے خواہ ایک دمڑی بھی وصول کروان کو نظام میں داخل ضرور کرو اس لئے وہ شامل ہونے شروع ہو گئے ہیں۔انتخاب کے لئے یہ شرط ہوتی ہے کہ با شرح چندہ دینے والا ہو جس کا کوئی بقایا نہ ہو۔اس صورت میں دو قسم کے مسائل ہمارے سامنے آرہے ہیں۔ایک تو یہ کہ بعض لوگ شرح کے ساتھ چندہ نہیں بھی دیتے یا دیتے ہی نہیں اور آخر پر اکٹھا دے دیتے ہیں۔جو آخر پر اکٹھا دیتے ہیں ان کا نام میرے نزدیک انتخاب کے لئے شمار نہیں ہونا چاہئے سوائے اس کے کہ جماعت کی طرف سے یہ تحریک ہو کہ ہم آپ کو پیشل اجازت دیتے ہیں اب جس نے دینا ہے دے لے۔بعض حالات میں وہ ضروری ہوتا ہے۔مگر بالعموم جو یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ ادھر انتخاب ہونے والا ہے ادھر سیکرٹری مال کا دفتر کھل گیا ہے اور وہ حساب پرانے کر کے آپ کا پانچ سال کا اتنا بقایا ، وہ کہتا ہے نہیں اتنا تھا ، وہ حساب پورے کر رہا ہوتا ہے اور اگر چھ مہینے پہلے پر بات ٹھہر جائے تو وہاں تک ادا ہو گیا۔اگلا پھر ضروری نہیں کہ ادا ہو۔یہ تقویٰ کے منافی باتیں ہیں۔ایسے پیسے میں جماعت کو کوڑی کی بھی دلچسپی نہیں ہے۔اس لئے اب تک جو ہو چکا ، ہو چکا ، آئندہ ہر گز آپ نے یہ حرکت نہیں کرنی۔جو تقویٰ کے ساتھ عام چندہ دینے والے ہیں کبھی رہ جاتا ہے ان کا بقایا ادا ہونا اور بات ہے۔مگر انتخاب کی ممبر شپ کے لئے ظاہر و باہر ایسی حرکتیں ہورہی ہوں اس سے آنکھیں بند نہیں کی جا سکتیں۔اگر کوئی جماعت ایسے موقع پر چندے لے کر ان کو ممبر بنائے گی اور میرے علم میں آئے گا تو ان لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی جنہوں نے ایسی حرکت کی ہو۔جہاں تک چندہ شرح سے