خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 304 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 304

خطبات طاہر جلد 14 304 خطبہ جمعہ 28 اپریل 1995ء صل الله تاریخی واقعہ ہمارے سامنے آتا ہے کہ تمام صحابہ کی متفقہ رائے کو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے رد فرما دیا کیونکہ خدا نے مختلف سمت میں آپ کو عزم عطا کیا تھا ہمت کا عزم بخشا تھا۔فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلُ عَلَى اللهِ کا یہ مطلب نہیں کہ جب تو مشورہ قبول کرلے تو پھر تو کل کر۔فرمایا مشورہ کے بعد تو نے فیصلہ کرنا ہے پھر جو فیصلہ کرے اس پر اللہ کا تو کل رکھنا کہ اللہ تمہارے ساتھ ہوگا اور یہی تو کل حضرت ابو بکر صدیق نے اختیار کیا جبکہ آنحضرت ﷺ کے وصال کے بعد ایک لشکر کو بھیجنے کا مسئلہ اٹھا جو بہت دور کے کسی محاذ پر بھیجا جانا تھا۔تمام صحابہ بلا استثناء اس بات کے حق میں تھے کہ ماحول بگڑ چکا ہے ، حالات ناسازگار ہیں، اہل مدینہ کے لئے خطرات ہیں،اس لئے کچھ دیر کے لئے اس لشکر کو روک دیا جائے۔ایک حضرت ابوبکر تھے جو اس بات پر قائم تھے کہ الله محمد رسول اللہ ﷺ کا آخری فیصلہ میں کون ہوتا ہوں ابن ابی قحافہ جو اس کو رد کر دے یا اسے ٹال سکے۔آپ نے فرمایا یہ نہیں ہوگا، یہاں تک فرمایا کہ مدینے کی گلیوں میں صحابہ کی اور ان کی عورتوں کی اور ان کی بچوں کی اگر کتے لاشیں گھسیٹتے پھریں ، یہ خطرہ بھی ہو تب بھی میں محمد رسول اللہ اللہ کے فیصلے کو نہیں بدلوں گا ، یہ لشکر جائے گا۔فَتَوَكَّلُ عَلَى اللهِ تو کل کیا اور توکل کا ایسا عظیم الشان نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ تاریخ میں اس کی مثال دکھائی نہیں دیتی۔سارا عرب تقریباً تقریب باہر کا وہ عملاً باغی ہو چکا تھا اور کس طرح اس بدامنی کی حالت کو خدا نے خلافت کے ذریعے پھر امن میں تبدیل فرما دیا۔تو توکل علی اللہ کا مضمون جو ہے یہ میں آپ کو سمجھا رہا ہوں۔کوئی یہ نہ کہے کہ مراد صرف یہ ہے کہ رسول اللہ اللہ تک ہے اور اس کے بعد آپ کا یہ فیض آگے جاری نہیں ہو رہا۔فیض محمد رسول اللہ ﷺ ہی کا ہے مگر جو بھی بچے طور پر اس منصب پر فائز ہو، جومحمد رسول اللہ ﷺ کی نمائندگی کر رہا ہو اس کو بھی ضرور یہ فیض نصیب رہے گا اور ہم نے ماضی میں دیکھا ہے ہمیشہ نصیب رہا ہے۔تمام چھلی خلافتوں کے دور کا آپ مطالعہ کر کے دیکھ لیں بلا استثناء جب بھی خلیفہ نے مجموعی رائے یا اکثریت کی رائے کے خلاف فیصلہ دیا ہے اسی فیصلے میں برکت ، اسی فیصلے کی اللہ تعالیٰ نے حفاظت فرمائی جو فیصلہ اس نے تو کل کرتے ہوئے اکثریت کے خلاف دیا۔تو اس بات پر قائم رہیں۔ایک افریقہ کا ملک ہے جہاں اس وقت جلسہ ہورہا ہے وہاں مجلس شوریٰ بھی ہوگی وہاں امیر