خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 303
خطبات طاہر جلد 14 303 خطبہ جمعہ 28 اپریل 1995ء ان کی حیثیت ہوتی ہے خلیفہ وقت کو وہ فیصلہ بطور مشورہ بھیجا جاتا ہے۔ ایک فیصلہ ہے مقامی طور پر، مقامی طور پر وہ فیصلہ ہو چکا۔ اس فیصلے کے خلاف کسی کو کچھ کہنے کا وہاں حق نہیں ہے اور سر تسلیم خم کر دینا چاہئے ۔ ایک امکان موجود ہے کہ مجلس شوری کا کوئی ممبر یہ سمجھتا ہے کہ اختلاف کی وجہ اتنی اہم ہے کہ جماعت کے گہرے مفا کہرے مفادات سے سے تعلق رکھتی ہے تو مجلس شوری کے صدر سے درخواست کر ۔ کے اپنا یہ حق محفوظ کروا سکتا ہے کہ میں خلیفہ اسیح کی خدمت میں یہ اختلافی وجہ لکھوں گا اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ صدر مجلس کو سوائے اس کے کہ صدر کا فیصلہ یہ ہو کہ یہ انسان اس لائق نہیں ہے، کسی وجہ سے وہ اس کو اجازت نہ دے تو پھر اس کو یہ کام نہیں کرنا چاہئے مگر پھر صدر کا فرض ہوگا کہ جس کو اجازت نہ دیں اس کے متعلق خلیفہ وقت کو مطلع کرے یہ واقع ہوا تھا اور میں نے اجازت نہیں دی تا کہ خلیفہ وقت کا جو بالاحق ہے وہ محفوظ رہے۔ اگر وہ سمجھے کہ ہو سکتا ہے صدر کا فیصلہ غلط ہو تو خود کہہ کر اس سے اختلافی نوٹ منگوا سکتا ہے۔ تو بہت ہی کامل نظام ہے یہ۔ ایسا نظام نہیں ہے جو اتفاقاً پیدا ہوا ہے۔ قرآنی تعلیم کے مطابق ایک رخنوں سے پاک نظام ہے جو خدا کے فضل سے جماعت احمد یہ میں جاری ہے تو جب وہ فیصلہ جو وہاں ہو چکا ہے اور اس پر کوئی اختلافی نوٹ نہیں لکھوایا گیا خلیفہ وقت کی خدمت میں پہنچتا ہے تو فیصلے کے طور پر نہیں ، مشورے کے طور پر ۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ (آل عمران : 160) اے اللہ کے رسول علی پھر جب یہ فیصلہ کرے یعنی مشورہ آگیا اب فیصلہ تو نے کرنا ہے۔ صلى الله الله اب یہ جو انتہائی اہم بات ہے یہ صرف حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے وصال تک نہیں پہنچتی بلکہ آپ کے غلاموں میں اور آپ کی نمائندگی میں نظام جماعت کے منصب پر فائز لوگوں تک بھی یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ یہ وہ بنیادی بات ہے جو گزشتہ خطبے میں جو شوری سے تعلق تھا میں کھول کر بیان کر چکا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کے خلفاء نے بھی بعینہ یہی مطلب نکالا اور مشورے سننے کے بعد یا قبول کرتے تھے یا رد کرتے تھے اور اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کرتے تھے کہ اکثریت کا مشورہ اس بات کے حق میں ہے اور اقلیت کا اس بات کے حق میں ہے۔ یہاں تک کہ ایک بھی اختلاف نہ ہو تب بھی آپ کے خلفاء نے مشورے رد کئے ہیں اور آنحضرت ﷺ نے بھی ایسے م ایسے مشورے رد کئے ہیں جس پر صحابہ کا پورا اتفاق تھا مثلاً عمرہ کے لئے جب بیت اللہ کے طواف کے لئے حاضر ہونا تھا تو صلح حدیبیہ کے میدان میں یہ عظیم صلى الله