خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 302 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 302

خطبات طاہر جلد 14 302 خطبہ جمعہ 28 اپریل 1995ء آپ اس دماغی حالت میں نہیں ہیں کہ جہاں اطمینان سے فیصلے کرسکیں اور مجلس شوری کا مقصد ہی ختم ہو گیا وہاں سے۔اس لئے جب آپ بات کریں اختلاف پہ حوصلہ کریں ، حوصلے سے برداشت کریں اور اللہ اختلاف کی خاطر، اختلاف کو عزت دیں، اختلاف کرنے کی حوصلہ شکنی نہ کریں۔مگر یہ بات یا درکھیں کہ اختلاف کے بعد جب فیصلہ ہو جائے تو پھر آپ سب کے دل اس فیصلے پر اکٹھے ہو جانے چاہئیں۔اس کے بعد اگر کوئی ادنی سی بات بھی آپ کے دل کی اس فیصلے کی حدود سے باہر نکل کر کوئی پرا پیگنڈہ کرتی ہے یا لوگوں میں بدظنی پیدا کرتی ہے یا اس فیصلے کی تائید میں جو آپ کا فیصلہ تھا ، اس اجتماعی فیصلے کے خلاف باتیں کرتے ہیں جس پر خلیفہ وقت کی طرف سے صاد ہو جاتا ہے تو پھر آپ اس جماعت کا حصہ نہیں رہتے۔آپ کا تعلق ٹوٹ جاتا ہے۔اگر چہ ظاہری طور آپ کو جماعت سے خارج کیا جائے یا نہ کیا جائے ایسی صورت میں آپ کا جماعت سے رستہ الگ ہو جاتا ہے۔تو یا د رکھیں فیصلے تقویٰ سے کریں۔مشورے جرات سے خدا کی خاطر دیں۔اپنی زبان پر ادب کے پہرے بٹھا ئیں۔کوئی ایسی بات نہیں ہونی چاہئے جس میں تلخی پائی جائے ، جس کے نتیجے میں کسی کی دل آزاری ہو اور نہ اپنی دل آزاری ہونے دیں۔اگر کوئی آپ کے خلاف دل آزاری کی بات کرتا ہے تو برداشت کریں۔خدا کی خاطر صبر کریں کیونکہ اس میں پھر آپ کو اللہ کی طرف سے بہت بڑی جزا ملے گی اور پھر جو بھی فیصلہ ہو اس پر سر تسلیم خم کریں اور جب مجلس شوریٰ کا فیصلہ ہو تو اسے آخری فیصلہ نہ سمجھیں۔یہ بھی ایک بہت اہم بات ہے جسے تمام مجالس شوری کے ممبران کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے بلکہ ساری جماعت کو، یہ شوری دنیا کی پارلیمنٹ نہیں ہوتی کیوں مجلس شوری سے مراد یہ ہے کہ جیسا کہ اللہ نے حضرت محمد مصطفی ﷺ کو حکم دیا تھا کہ شَاوِرُهُمْ فِي الْأَمْرِ (آل عمران : 160) کہ تو ان سے صلى الله مشورہ مانگ۔اس لئے اگر محمد ﷺ اس حکم کے تابع ہیں تو کون ہو سکتا ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ کا غلام ہو اور اس حکم کے تابع نہ ہو۔اس لئے خلیفہ وقت پر لازم ہے کہ تمام اہم امور میں جن کو مشورے کا اہل سمجھے ان سے فیصلہ کرنے سے پہلے مشورہ کر لیا کرے۔یہ نظام تو جیسے گزشتہ مجلس شوری پاکستان کے موقع پر میں پہلے سمجھا چکا ہوں۔اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جب مجلس شوری فیصلے کرتی ہے تو یہ