خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 301 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 301

خطبات طاہر جلد 14 301 خطبہ جمعہ 28 اپریل 1995ء پڑے۔اگر اس کی سچائی کی سزا میں ان کے دوست اس سے بدظن ہوتے ہیں، پیچھے ہٹتے ہیں تو یاد رکھنا چاہئے کہ حقیقت میں وہ خدا سے بدظن ہوتے ہیں، خدا سے پیچھے ہٹتے ہیں کیونکہ اللہ ایسے لوگوں کی حفاظت فرماتا ہے جو اس کی خاطر سچائی پر قائم رہتے ہیں ان کو کبھی نقصان نہیں پہنچنے دیتا اور ہمیشہ ان کی حفاظت فرماتا ہے۔دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جب مناظرہ ہوا،سب سے پہلا مناظرہ محمد حسین بٹالوی صاحب کے ساتھ ، تو کتنا بڑا ایک مجمع تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اہل سنت کا نمائندہ بنا کر وہ اہل حدیث مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب کے خلاف مناظرے کے لئے لے کے گیا اور ان کو یقین تھا کہ حضرت مسیح موعود کی ایسی فراست ہے، ایسا علم ہے۔اس وقت تک کافی شہرہ ہو چکا تھا کہ مولوی محمد حسین بٹالوی کی کوئی حیثیت ہی نہیں اس کے مقابل پر۔وہاں جا کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو سوال فرمایا کہ آپ بتائیں قرآن اور حدیث کا آپس میں کیا رشتہ ہے۔تو جو جواب دیا مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب نے وہ بالکل وہی تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا عقیدہ تھا جو ہونا چاہئے تھا۔آپ نے فرمایا آپ ٹھیک کہتے ہیں اور بات ختم ہوگئی۔اس پر اتنا شور پڑا ، وہ لوگ جو حمایتی بن کے آئے تھے وہ حیران رہ گئے کہ انہوں نے تو ہمیں ذلیل اور رسوا کر دیا۔یہ ہار گئے اور مولوی محمد حسین بٹالوی جیت گیا۔مگر اللہ کو یہ بات اتنی پسند آئی کہ وہ جو الہام ہے کہ میں تجھے برکت پر برکت دوں گا وہ اس موقع سے تعلق رکھتا ہے۔” یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔پس اللہ تعالیٰ اپنی حمایت میں بولنے والے، اپنی حمایت میں شرمندگی قبول کرنے والے کو کبھی خالی نہیں چھوڑتا اور جو شخص اس وجہ سے دشمنی کرے کہ اس نے خدا کی خاطر اس کو ناراض کرنے کی جرات کی ہے وہ خدا کو اپنا دشمن بنالیتا ہے۔پس نظام جماعت میں مجلس شوری کے اندر جب باتیں ہوں تو ہر گز کسی کے اختلاف کا برانہیں منانا اور نہ آپ کی بات کا دوسرا برا منائے نہ آپ اس کی بات کا برا منائیں اور برا منانے کا جہاں تک تعلق ہے بسا اوقات انسان پکڑ نہیں سکتا مگر طرز کلام سے بھی ظاہر ہو جاتا ہے۔جب آپ باتیں کرتے ہیں تو باتوں میں گرمی پیدا ہو جاتی ہے۔بعض دفعہ نام لیتے وقت ادب کے تقاضے چھوڑ دیتے ہیں اور جوش جو ہے وہ ابلنے لگتا ہے۔یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ اب