خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 300 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 300

خطبات طاہر جلد 14 300 خطبہ جمعہ 28 اپریل 1995ء دفعہ سامنے آتی ہیں میں سمجھاتا ہوں کہ یہ کوئی طریق نہیں ہے خدا کا خوف کرو اور اپنی بد نیتوں کو نظام جماعت کے نام پر استعمال نہ کرو لیکن وہ متقی لوگ جن کا بعض لوگوں سے نہ دوستی کا تعلق ، نہ دشمنی کا تعلق ، وہ ذمہ دار بنائے گئے ہیں کہ بعض اہم اطلاعیں خاص آدمیوں سے تعلق رکھنے والی جب ان کے سامنے آئیں تو میرے سامنے پیش کریں۔تو بسا اوقات امیر کو ایک آدمی کے عام حالات کا پتا ہی نہیں ہوتا مگر جب وہ عہدیدار منتخب ہوتا ہے تو اس کے متعلق بصیغہ راز بعض اطلاعیں ملتی ہیں۔اس وقت اس کا فرض ہے کہ ان اطلاعوں کو آگے پہنچائے تا کہ ابتدائی پہلو سے جس حد تک چھان بین ممکن ہے ہم چھان بین کے بعد ان لوگوں کو اوپر آنے دیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ مومنوں کی نظر میں ، دل کی سچائی کے ساتھ ان کی نظر میں ، وہ اچھے پاک لوگ ہیں۔ایسے لوگ جب مجلس شوری میں پہنچ جاتے ہیں تو پھر آگے ان پر ابتلاء کا دور شروع ہو جاتا ہے۔وہاں جو وہ باتیں کرتے ہیں بسا اوقات نیک لوگ بھی جب بحث میں پڑ جائیں تو اختلاف میں اپنے آپ کو غالب کرنے کے لئے ان کی سوچیں ٹیڑھی ہونے لگ جاتی ہیں۔اس وقت یہ پیش نظر نہیں رہتا کہ جماعت کا مفاد اس میں ہے۔اس وقت یہ پیش نظر ہوتا ہے کہ میری بات مانی جائے اور میں جیت جاؤں اور اس کے بعد اگر وہ جیت جائیں تو ان کی خوشی ، ان کا اطمینان ، ان کے چہرے کی مسکراہٹیں ، ان کے عدم تقویٰ پر گواہ بن جاتی ہیں اور اس کے برعکس بعض ایسے لوگ ہیں جو جیتے ہیں تو استغفار کرتے ہیں، دل شرمندہ ہوتے ہیں کہ ایک شخص کے موقف کے خلاف مجھے اتنی محنت کرنی پڑی لیکن چونکہ محض اللہ تھی اس لئے اس کی کامیابی پر دل کا اطمینان وہ فخر کی مسکراہٹیں نہیں بن سکتا۔ہمیشہ انکسار میں رہتا ہے اور ایک قسم کی شرمندگی رہتی ہے۔مگر جب بھی ایسا موقع آئے گا وہ پھر ضرور وہ بات کریں گے اور بسا اوقات ایسے لوگوں کو بعض دفعہ اس کا یہ نقصان پہنچتا ہے کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں انہوں نے ہمارے خلاف باتیں کی تھیں تو اپنے تعلقات بھی کم کر لیتے ہیں لیکن جب وہ تعلقات کم کرتے ہیں تو یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ وہ ایک متقی سے جب تعلق کم کرتے ہیں تو خدا سے تعلق کم کرتے ہیں۔اس متقی وجود کی ذاتی حیثیت ، کنہہ کو سمجھیں۔جو شخص دل کے تقویٰ کے ساتھ اللہ کی خاطر سچی بات بیان کرتا ہے جانتا ہے کہ اس کے نتیجے میں وہ دوست جو دوسرا موقف پیش کر رہا ہے اس کے دل پر بُرا اثر پڑے گا ، جانتا ہے کہ ہوسکتا ہے ہمارے تعلقات پر برا اثر