خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 293
خطبات طاہر جلد 14 293 خطبہ جمعہ 28 اپریل 1995ء شیطانی ہے یعنی بالآخر نظام جماعت سے انسان باغی ہو جائے۔پس نیکی کے نام پر بدی پھیلانے والی بات ہے۔یہ وضاحت بہت ضروری ہے کہ جن ملکوں میں انتخابات ہونے ہیں یا مجلس شوریٰ ہو رہی ہے وہاں اس پہلو سے ابھی بہت زیادہ نگرانی اور بار بار نصیحت کی ضرورت ہے۔اول تو یہ بہت اہم بات ہے کہ اپنے ووٹ دیتے وقت قرآن کریم کی اس نصیحت کو پیش نظر رکھیں کہ یہ امانت ہے اور امانت کو اس کے حق دار کو دیا کرو اس کے سوا اور کوئی شرط نہیں ہے جو قرآن کریم نے اسلامی ڈیما کریسی کی تصویر کھینچتے ہوئے بیان فرمائی ہے۔جب بھی تم ووٹ ڈالو تو اس کو ووٹ دو جو تقویٰ کے لحاظ سے حق دار ہو اور غیر حق دار کو ووٹ نہیں دینا۔اس مضمون پر مختلف پہلوؤں سے قرآن کریم کی آیات روشنی ڈالتی ہیں اور یہ واضح کر دیتی ہیں کہ مومن وہ ہے جو قریب ترین رشتے داریوں کا بھی لحاظ نہیں کرتا جب خدا کی خاطر اسے بات کہنی ہو۔چنانچہ شہادت کے ضمن میں فرماتا ہے کہ شہادت کے وقت تو مومن کی یہ کیفیت ہوتی ہے کہ رشتے داروں کی رعایت تو در کنار خود اپنے خلاف گواہی دینے پر کھڑا ہو جاتا ہے۔اپنی ذات پر اپنے قریب ترین لوگوں کے خلاف گواہی دینے کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے۔یہ وہ تقویٰ کا معیار ہے جو اسلام قائم کرتا ہے اور اس معیار کی رو سے جب بھی انتخابات ہوں وہاں اگر باپ کو بھی ایک بچہ اہل نہیں سمجھتا تو اس کا فرض ہے کہ باپ کے خلاف اپنا ووٹ ڈالے اور کسی کا حق نہیں ہے کہ اپنے کسی رشتے دار یا دوست کو بعد میں اس بات کا طعنہ دے کہ فلاں وقت تم نے میرے حق میں ووٹ نہیں دیا۔یہ جو بات میں کہہ رہا ہوں اس کی ایک جگہ سے مجھے اطلاع ملی کچھ دن ہوئے اور اسی وجہ سے میری توجہ اس طرف پھری کہ ووٹ انتخاب کے بعد جو ایک شخص ہار گیا اس کو پتا چلا کہ اس کے قریبی رشتے داروں نے اس کے خلاف ووٹ ڈالے تھے تو ان کے گھر گیا۔وہاں بڑا اس نے شکوے شکایتیں کیں کہ تم لوگ کیا چیز ہو میرے عزیز رشتے دار ہو کے تم لوگ ہی مجھے لے ڈوبے حالانکہ یہ ان کو لے ڈوبنے والا تھا وہ بچ گئے ہیں اللہ کے فضل سے۔الٹا قصہ ہے تو جہاں بھی انتخابات میں تعلقات، رشتے داریاں وغیرہ اثر انداز ہوں گی وہاں نظام جماعت کی زندگی پر حملہ ہوگا۔اسی حد تک نظام جماعت بیمار ہو گا بیمار اور صحت مند وجود میں بڑا فرق ہوا کرتا ہے۔نچلی سطح آپ اپنی صحت درست کر لیں تو جماعت کی جو اجتماعی طاقت ہے اس میں غیر معمولی اضافہ ہو جائے گا اور یہ کوئی فرضی