خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 294 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 294

خطبات طاہر جلد 14 294 خطبہ جمعہ 28 اپریل 1995ء باتیں نہیں ہیں ، عین حقیقت کی باتیں ہیں، سو فیصد درست ہیں۔ہر قطرہ احمدیت کا جو یہ سمندر بنا رہا ہے وہ قطرہ صالح ہونا چاہئے اگر وہ صالح ہو جائے تو سمندر صالح رہے گا۔اگر اس میں آمیزش آجائے گی تو اسی حد تک سمندر کا پانی غیر صحت مند ہوتا چلا جائے گا۔پس انتخابات کے وقت جو عہدیداران کے ہوں یا مجلس شوری کے ہوں اس بات کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں کہ کسی قسم کی کوئی رعایت، کوئی تعلقات کا واسطہ انتخابات پر اثر انداز نہ ہواور کیا ہو؟ اس کے متعلق قرآن فرماتا ہے اِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَنفُسِكُمْ (الحجرات :14) کہ تم میں سے سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔تو سب سے زیادہ متقی کو آگے لانا ہے اور اس میں یہ بحث نہیں آئے گی کہ چالاک کون ہے یا دنیا کے لحاظ سے کون اہلیت رکھتا ہے کیونکہ اکثر لوگ یہ بات نہیں سمجھتے کہ دنیا کی چالاکیوں سے عاری شخص جو متقی ہو اس کے کام میں ہمیشہ زیادہ برکت ہوتی ہے بہ نسبت ایک تقویٰ سے عاری چالاک شخص کے۔تقویٰ سے عاری چالاک شخص کے ہاتھ میں تو کچھ بھی محفوظ نہیں ہے۔نہ نظام جماعت کی قدریں محفوظ ہیں، نہ جماعت کے اموال محفوظ ہیں اور وہ فتنوں کا موجب بن جاتا ہے اور بن سکتا ہے لیکن بظاہر ایک سادہ انسان ہو، متقی ہو خدا کا خوف رکھتا ہو اس کے ہاتھ میں کچھ بھی غیر محفوظ نہیں ہے۔ساری جماعت کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ جب بھی بعض کام کسی کے سپرد کئے گئے ہیں جو تقویٰ رکھنے والے تھے خواہ وہ علم کے لحاظ سے ادنی حیثیت رکھتے تھے ان کے کاموں میں برکت پڑی ہے اور چالاک علماء کے ہاتھ کچھ بھی نہ آیا بلکہ وہ ہمیشہ نقصان کا موجب ہی بنے رہے ہیں۔ایک تو یہ خیال دل سے نکال دیں کہ چالاکیاں کام آسکتی ہیں اس لئے آپ کو چالاک آدمی کو چننا چاہئے۔جتنا چالاک ہو، تقوی سے عاری ہو اتنا ہی زیادہ خطرناک ہے۔اس کو نظام کے قریب تک نہ پھٹکنے دیں۔دوسری بات یہ یاد رکھیں کہ یہ آپ کا غلط اندازہ ہے کہ تقویٰ اور بیوقوفی اکٹھے ہو سکتے ہیں۔تقویٰ اور بے وقوفی اکٹھے ہو ہی نہیں سکتے۔وہ بے وقوف ہے جو تقویٰ سے عاری ہوتا ہے۔اگر ہوشیار ہوتا اور عقل والا ہوتا تو ناممکن تھا کہ تقویٰ کے بغیر زندگی بسر کرتا۔اول تو سفر کا آغاز ہی عقل سے شروع ہوتا ہے جو اولوالالباب لوگ ہیں وہی ہیں جو خدا کا مقام اور مرتبہ پہچانتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہیں اور اس کا خوف رکھتے ہیں اور اگر وہ عقل والے نہ