خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 292
خطبات طاہر جلد 14 292 خطبہ جمعہ 28 اپریل 1995ء نہ کرے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس پہلو سے جماعت کی تربیت بہت عمدہ ہو چکی ہے کہ اگر ان کو یہ علم ہو کہ مرکز سے کسی نام کی نا منظوری آئی ہے تو قطعاً دل میں میں نہیں لاتے اور سرتسلیم خم کر دیتے ہیں۔تو جو اجتماعی تقویٰ کا معیار ہے وہ تو خدا تعالیٰ کے فضل سے کافی بلند ہے لیکن انفرادی طور پر جب انتخاب کے وقت ووٹ دیئے جاتے ہیں تو بسا اوقات تعلقات، جنبہ داریاں، رشتے داریاں، دوستیاں وہ ان ووٹوں پر اثر انداز ہو جاتی ہیں۔خاص طور پر وہاں یہ زیادہ خطرناک صورت حال پیدا کرتی ہیں جہاں جماعتوں میں بعض گروہ بندیاں ہوئی ہوئی ہوں۔بعض خاندانوں کی بعض دوسرے خاندانوں سے لڑائیاں ہوں۔بعض خاندانوں کی بعض دوسرے خاندانوں سے چپقلش چل رہی ہو۔ایسی صورت میں یا صدر جماعت ہیں وہ اگر نا اہل ہوں تو ان کی نااہلی کی وجہ سے بھی بعض دفعہ افتراق پیدا ہو جاتے ہیں کیونکہ اپنے نیچے قوم کو متحد رکھنا یہ مختلف صلاحیتوں کا تقاضا کرتا ہے اور بعض دفعہ بعض صدروں میں وہ صلاحیت نہیں ہوتی کہ سب کو ایک خاندان کی طرح ساتھ لے کر چلیں۔اس لئے ان کی نا اہلی کے نتیجے میں بھی بعض دفعہ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ بعض دوست اس صدر کے قریب ہیں اور بعض نسبتا دور ہیں اور یہ تاثرات ضروری نہیں کہ صحیح ہوں بعض فتنہ پرداز ایسے لوگ ہوتے ہیں جوان تاثرات کو ہوا بھی دیتے ہیں اور اس طرح پھر افتراق پیدا کر دیتے ہیں۔تو کمزوری جوصدر کی نظم وضبط کی کمزوری یا اس کے ذہن کی روشنی کی کمزوری سے پیدا ہوتی ہے اس کو بد نیتوں کے اندھیرے اور زیادہ گہرا کر دیتے ہیں اور لوگ صفائی سے پھر حالات کو دیکھ نہیں سکتے اور اندھیرے کے نتیجے میں ہمیشہ غلط فیصلے ہوتے ہیں۔پھر یہ تو مختصر اس کا پس منظر ہے۔جو خلاصہ کلام ہے وہ یہ ہے کہ بسا اوقات جب انتخاب ہو رہے ہوتے ہیں وہاں اس قسم کی مخفی جذبہ داریاں اور تعلقات کے اثرات اپنا اثر دکھا رہے ہوتے ہیں۔ایسی صورت میں اس بات کا احتمال موجود ہے کہ جو شخص منتخب ہو وہ پوری طرح تقویٰ کے تقاضوں کے پیش نظر منتخب نہ ہو بلکہ کسی اور وجہ سے منتخب ہوا ہو۔یہ سب احتمالات اپنی جگہ مگر اگر ان باتوں کو خود فتنے کا موجب بنا دیا جائے تو اس سے بھی بڑا فتنہ پیدا ہو جاتا ہے۔مثلاً اگر کوئی یہ کہے کہ چونکہ یہاں ایسی باتیں چلتی ہیں اس لئے جو منتخب عہد یداران ہیں وہ تقویٰ سے گرے ہوئے ہیں اس لئے ہم ان سے تعاون نہیں کریں گے تو یہ پھر فتنہ نہیں بلکہ شیطانی ہے۔جس شیطانی کو روکنے کے لئے ہم فتنوں کے رستے روکتے ہیں یہ وہی