خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 290
خطبات طاہر جلد 14 290 خطبہ جمعہ 28 اپریل 1995ء کثرت سے پاکستان سے مختلف علاقوں سے بھی احمدی آکے آباد ہوئے ہوئے ہیں، خیال یہ تھا کہ ان کو شوریٰ کا تجربہ ہو گا اس لئے وہ وہاں غلطیاں نہیں کریں گے۔مگر الحمد للہ کہ وقت پر یہ بات سامنے آگئی کہ اکثر وہ لوگ شوری میں شامل ہوئے جن کو پاکستان میں بھی شوری میں کبھی جانے کا اتفاق ہی نہیں ہوتا تھا۔اس لئے محض یہ ظن کہ پاکستان سے آئے ہیں وہ اپنے جرمن بھائیوں کی بھی تربیت کریں گے یہ سچا ثابت نہ ہوا۔۔(سابقہ بات میں کر رہا ہوں ) اور ان کے مقابل پر جو جر من احمدی تھے انہوں نے بہت بہتر نمونے دکھائے۔اس لئے کچھ مجھے بعض دفعہ ناراض بھی ہونا پڑا۔بعضوں کو بعض عہدوں سے فارغ کرنا پڑا اور اب میں سمجھتا ہوں کہ اللہ کے فضل سے ان کی مجلس شوری کا نظام بلوغت کو پہنچ گیا ہے اس میں پختگی پیدا ہوگئی ہے۔مشورے نیک اور تقویٰ کے مطابق دیتے ہیں، کوئی یہ احساس نہیں کہ فلاں میرے دوست نے یہ بات کی ہے اس لئے اس کی تائید کی جائے اور یہی وہ تقویٰ ہے جو دراصل جماعت کی زندگی کا ضامن ہے، جماعت کی روح اس تقویٰ میں ہے۔اگر شوری کے نظام کو ہم بڑی احتیاط کے ساتھ جاری کر دیں، اس میں جتنے بھی تقوی سے ہٹے ہوئے رجحانات داخل ہونے کا امکان ہے ان رجحانات کے رستے بند کر دیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت بہت تیزی سے ترقی کرے گی اور جب میں کہتا ہوں کہ رجحانات ہیں تو یہ رجحانات ہر انسان کی ذات میں دبے ہوئے ہیں اور جب تک انسان کی ذات متقی نہ ہو مجلس شوریٰ میں جا کر ایسا انسان اندر کے تقویٰ کے معیار کو قائم نہیں رکھ سکتا۔جہاں بھی اختلاف رائے ہو، جہاں اس بات کا امکان ہو کہ کسی شخص کے سپرد کوئی ذمہ داری کی جائے گی ، جہاں مختلف مالی امور کے خرچ کے مسائل بھی ہوں وہاں انسان کے ساتھ جو بشری تقاضے لگے ہوئے ہیں وہ ضرور کوئی نہ کوئی رخنہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس لئے احتیاط کی ضرورت ہے ہر انسان کو اپنا نگران خود ہونا پڑے گا۔مگر جہاں تک نظام جماعت کے نگران ہونے کا تعلق ہے خدا کے فضل سے وہ تقاضے ہم بہت حد تک پورے کر چکے ہیں اور پورے کرتے رہیں گے۔جو میں نے پہلی بات کہی تھی کہ اب نظام بلوغت کو پہنچ گیا ہے، یہ اس پہلو سے کہی تھی۔آج ہی چونکہ ایک اور ملک کی بھی مجلس شوریٰ ہو رہی ہے، آئیوری کوسٹ کی۔ان کی جماعت کا جلسہ ہے اور غالبا اس کے بعد انتخابات بھی اسی سال ہوں گے اور مجلس شوری کی کارروائی