خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 291 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 291

خطبات طاہر جلد 14 291 خطبہ جمعہ 28 اپریل 1995ء بھی ہوگی اس لئے ان کو بھی پیش نظر رکھ کر کچھ نصیحتیں کرنی ہیں۔جرمنی کی جماعت کو میں یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ اگر چہ نظام کے لحاظ سے یہ معاملہ بہت سدھر چکا ہے اور اپنی بلوغت کو پہنچ گیا ہے، لوگ سمجھ چکے ہیں کہ کس حد تک مجلس شوری میں شامل ممبران کو آزادی ہے، کس حد تک خدا تعالیٰ کی طرف سے جاری کردہ شریعت ان کے ہاتھ روکتی ہے کہ آگے نہیں بڑھنا ، ان کی زبان پر قدغن لگاتی ہے کہ اس سے آگے نہ بڑھو۔یہ جوامور ہیں ظاہری نظم وضبط کے اس لحاظ سے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب معاملہ پوری طرح نظم و ضبط کے دائرے میں آچکا ہے اور سب لوگ سمجھ گئے ہیں۔ہر ایک کو اپنے حقوق کا پتا ہے، ہر ایک کو اپنی ذمہ داریوں کا پتا ہے اور اب میرے نزدیک انشاء اللہ جرمنی جیسے ملک میں کوئی یہ جرات نہیں کر سکتا کہ نظام کی بے حرمتی کرے اور کھڑے ہو کر بعض ایسی باتوں پر اصرار کرے جن کے کہنے کا اس کو حق نہ ہو یا امیر کے سامنے گستاخانہ رویہ اختیار کرے یا اس سے آگے بڑھنے کی کوشش کرے یہ باتیں تو انشاء اللہ وہاں نہیں ہوں گی اور مجھے امید بھی ہے، دعا بھی ہے کہ آئندہ کبھی ایسی باتیں نہ ہوں۔لیکن جو انسان کے اندر چھپا ہوا باغی ہے، انسان کے اندر چھپا ہوا خود غرض آدمی ہے وہ تو ہر جگہ رہتا ہے اور جب تک اس مقام پر نہ پہنچ جائے جہاں اللہ اس کی حفاظت فرمائے اس وقت تک اس سے ہمیشہ خطرات لاحق ہوتے ہیں۔چنانچہ چند سال پہلے مجھے مجلس شوری مرکز یہ جور بوہ میں منعقد ہورہی تھی یعنی پاکستان کی مجلس شوری جور بوہ میں منعقد ہو رہی تھی اس کی رپورٹیں کچھ ملیں اس پر میں نے ان سے ریکارڈنگز منگوا ئیں اور مجھے بہت اس بات سے دھکا لگا کہ اتنی لمبی تربیت یافتہ لوگوں کی موجودگی میں پھر بعض لوگوں نے بعض ٹیڑھی سوچیں داخل کر دی تھیں۔بعض ٹیڑھے مطالبے شروع کر دیئے تھے تو نظم وضبط کے لحاظ سے اطمینان اپنی ذات میں کافی نہیں ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مجلس شوری کی اجتماعی شخصیت اس میں شامل ہونے والوں کی شخصیت کا مجموعہ ہے۔اگر اس میں شامل ہونے والوں کی سوچیں غیر متقیانہ ہوں اور ان کی نگرانی اچھی نہ ہو تو کسی وقت بھی وہ مجلس کا مزاج بگاڑ سکتے ہیں۔اس پہلو سے جو ممبر بنتے ہیں ان پر بھی گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔اس نظام پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے جس نظام سے کوئی منتخب ہو کر مجلس شوریٰ تک پہنچتا ہے۔ان خطرات کے پیش نظر آخری اختیار مرکز کے ہاتھ میں رکھا گیا ہے چاہے تو وہ انتخاب کے مشورے قبول کرے، چاہے تو