خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 276
خطبات طاہر جلد 14 276 خطبہ جمعہ 21 اپریل 1995ء ہیں مگر احسان قبول کرنے کے نتیجے میں ایک غریب کی جو کیفیت ہوتی ہے بعض دفعہ وہ رو پڑتا ہے، بعض دفعہ خوشی سے چیچنیں مارنے لگتا ہے، بے قرار ہو جاتا ہے کہ کس طرح میں اس احسان کا بدلہ ا تاروں یہ اور کیفیت ہے اور احسان کرنے والا جو یہ کیفیات پیدا کرتا ہے وہ ان کیفیات سے بالا ہوتا ہے۔اس کے اندر یہ ہنگامے نہیں ہوتے بلکہ بعض دفعہ وہ شرمندگی محسوس کرتا ہے کہ یہ کیوں اس قدر اہمیت دے رہا ہے اس بات کو اور اللہ تعالیٰ نے یہی Nobility انسان کو ان معنوں میں سکھائی کہ جب تم بھوکوں کو کھانا کھلاتے ہو، جب غریبوں کی خدمت کرتے ہو اور وہ شکر یہ ادا کرتے ہیں تو یہ کہا کرولا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا (الدم:۱۰)۔یہ تو ہم اللہ کی خاطر کر رہے تھے، یہ عذر رکھ کر ان سے کہا کرو کہ ہمارا شکریہ ادا نہ کرو کیونکہ شکریہ جن معنوں میں وہ ادا کرتے ہیں اس سے ان کو ایک قسم کی تکلیف ہوتی ہے۔در حقیقت ایک غریب زیرا احسان آکر جب شکریہ ادا کرتا ہے تو اس کے کئی مضامین ہیں، اس سے کئی مضامین پیدا ہوتے ہیں تفصیلی طور پر چونکہ اس نکتے کی بحث نہیں اٹھارہا صرف اتنا بتانا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ جو ہمیں یہ فرماتا ہے کہ تم کہہ دیا کرو کہ مجھے شکریہ کی ضرورت نہیں ہے، دو وجوہات اس کی ممکن ہیں۔اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہیں۔ایک تو یہ کہ ہمارے اندر Nobility پیدا کی جائے اور ہمیں سمجھایا جائے کہ تم جو نیکیاں کرتے ہو ان کے ادنی ادنی بدلے اس وقت نہ حاصل کر لیا کرو اور اگر ایسا کرو گے تو تمہیں نیکی میں ایک لطف آنا شروع ہو جائے گا۔دوسرا یہ کہ جہاں تک جزا کا تعلق ہے وہ تو اللہ کی رضا سب سے اچھی جزا ہے اور اگر تم رضائے باری تعالیٰ کی خاطر نیکی کرو تو اپنا سودا تو تم نے بہت اچھی قیمت پر بیچ دیا، اس سے بہتر قیمت متصور نہیں ہو سکتی لیکن اس کے ساتھ تمہارا Nobility کا لطف اپنی جگہ قائم رہا یعنی بیک وقت دو باتیں ہاتھ میں آگئیں وہ ویسے ممکن ہی نہیں ہیں۔ایک انسان ایک سودے کو ایک دفعہ بیچتا ہے دوسری دفعہ نہیں بیچ سکتا اسی سودے کو کیونکہ وہ ہاتھ سے نکل گیا اور اللہ ہمیں دوہرے سودے بتاتا ہے۔فرماتا ہے نیکی کیا کرو تو ایسا احسان کرو کہ اس کے بدلے میں کسی قسم کی جزا کی تمنا نہیں رکھنی بلکہ کسی کی نیکی کے بدلے میں بھی جو نیکی کرتے ہو وہ نیکی نہیں ہے اس لئے ایسی نیکی کرو کہ کسی نے تم پر احسان نہ کیا ہو پھر نیکی کرو۔بڑی تفصیل سے یہ مضمون قرآن کریم میں پہلو سے روشن فرمایا گیا ہے۔یہ ہمیں خدا کے رنگ سکھائے جارہے ہیں، یہ صفات باری تعالیٰ سے تعارف کروایا جارہا