خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 275
خطبات طاہر جلد 14 275 خطبہ جمعہ 21 اپریل 1995ء کرتے۔تو اللہ کی ذات کا اور ہمارا اس معاملے میں کیا فرق ہے؟ یہ پہلو بھی توجہ کے لائق ہے اور اس کے نتیجے میں ہمیں جیسا کہ میں آگے جا کے بیان کروں گا ایک بہت گہرا سبق ملتا ہے۔ہم جب خوشی محسوس کرتے ہیں تو کچھ پانے کے نتیجے میں کرتے ہیں اور جب غم محسوس کرتے ہیں تو کچھ کھونے کے نتیجے میں محسوس کرتے ہیں اور پانے کا احساس جو ہے اگر محرومی بڑی ہو تو اتنا ہی زیادہ دل میں ہنگامہ پیدا کر دیتا ہے اور کھونے کا احساس اگر غربت بہت ہوتو اتنا ہی زیادہ زیرو بم دل میں پیدا کر دیتا ہے اور ایک ہیجان سابر پا ہو جاتا ہے۔تو اللہ کے ہاں نہ پانے کا یہ مفہوم ہے نہ کھونے کا یہ مفہوم ہے لیکن اس کے باوجود خوشی اور ایک معنے کا غم خدا کی ذات کے حوالے سے ہمیں احادیث میں ملتا ہے۔پھر اس کے کیا معنے ہیں؟ ایک شخص جس کا سب کچھ ہو اور اس نے ہر چیز پر احاطہ کیا ہو، وہ کوئی چیز کھو سکے ہی نہ۔اگر کوئی چیز اس سے ہٹ کر پرے جاتی ہے اور وہ باشعور ہے تو دراصل وہ کھو رہی ہے نہ کہ خدا کھو رہا ہے۔اس لئے وہ اگر خدا کومل جاتا ہے تو اس کے لئے خدا تعالیٰ کی خوشی سے مراد ایک نہایت اعلیٰ درجے کی Nobility کا منظر دکھاتا ہے ایک بہت ہی اعلیٰ اور Dignified خدا تعالیٰ کا ایک رد عمل ظاہر ہوتا ہے جو ان معنوں میں نہیں ہے کہ میں نے کچھ پالیا ہے ، ان معنوں میں ہے کہ اس میرے بندے نے وہ پالیا جس سے وہ محروم ہو رہا تھا اور یہ جو احساس ہے یہ ہنگامہ پیدا نہیں کرتا بلکہ Nobility کے احساسات میں ایک قسم کا دوام پایا جاتا ہے اور اس سے بجائے اس کے کہ جذبات میں ہیجان پیدا ہو ایک ایسا لطف محسوس ہوتا ہے جو ارتعاش سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ اس کو ہم شرافت کا لطف کہہ سکتے ہیں۔چنانچہ آپ پر اگر احسان کیا جائے تو آپ لطف اندوز ہوتے ہیں۔مگر اگر آپ احسان کریں تب بھی لطف اندوز ہوتے ہیں اور احسان کرنے کا لطف اپنے اندر وہ ولولہ نہیں رکھتا جو احسان قبول کرنے کا لطف رکھتا ہے لیکن احسان قبول کرنے کا لطف عارضی ہے اور وقتی ہے۔احسان کرنے کا لطف ایک دائمی لطف ہے۔چونکہ اس میں زیرو بم نہیں ہے اور ہنگامہ نہیں ہے اس لئے شرافت کا لطف ہمیشگی کا معنی رکھتا ہے اور اس میں خلود کے معنے پائے جاتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کا چونکہ ہم سے تعلق احسان کا ہے اس لئے جو احسان کا لطف ہم محسوس کرتے ہیں اس سے ملتی جلتی کوئی بات ہم سوچ سکتے