خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 254 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 254

خطبات طاہر جلد 14 254 خطبہ جمعہ 14 اپریل 1995ء میں داخل نہیں سمجھا گیا اور جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے میں درود تو پڑھوں گا اور سلام بھی بھیجوں گا لیکن ان کا ذکر بدی سے کرنا ان کو گالیاں دینا میرے بس کی بات ہی نہیں ہے۔جو کرنا ہے کرو اور ساتھ ہی یہ فرمایا کہ تمہیں یاد نہیں شاید کہ احد کے میدان میں ایک واقعہ ہوا تھا ایک صحابی تھے جو کھجور کھا رہے تھے۔جب آنحضرت ﷺ کی شہادت کی خبر مشہور ہوئی تو اس کھجور کو دیکھ کر انہوں نے کہا اے کھجور میرے اور جنت کے درمیان تو ایک کھجور ہی حائل ہے؟ اس کو اٹھا کے ایک طرف پھینک دیا اور سیدھا دشمنوں کے اوپر تنہا حملہ آور ہوئے اور ان کے جسم کے ٹکڑے اڑ گئے لیکن وہ شہادت کا عظیم مرتبہ حاصل کر گئے ( بخاری کتاب المغازی حدیث نمبر : 4046) اور ایسا مرتبہ جس کا ذکر ہمیشہ تاریخ اسلام میں خصوصیت کے ساتھ کیا جاتا ہے۔انہوں نے اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ دیکھوان کے اور جنت کے درمیان ایک کھجور ہی تو تھی مگر میرے اور جنت کے درمیان تو ہوا بھی نہیں ہے۔یہ تمہاری گولیاں تمہاری بندوقیں، میری چھاتی سے لگی ہوئی ہیں اس لئے جو کرنا ہے کر گز رو مگر یہ ناممکن ہے کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر بدی سے کروں۔اس بات کا ایسا رعب ان پر طاری ہوا کہ وہ اس وقت اپنے ارادے سے باز آگئے اور پھر بھی یہ سلسل تبلیغ میں مصروف رہے ہیں۔اور ان کے داماد چوہدری ریاض احمد صاحب، جن کا غلطی سے ایم۔ٹی۔اے پر ریاض احمد خان کے نام سے ذکر ہوتا رہا ہے ، یہ چوہدری ریاض احمد صاحب ہیں، ریاض احمد خان نہیں۔اگر چہ رشید احمد خان صاحب کے داماد تھے، ان کا خاص جو مقام اور مرتبہ ہے وہ یہ ہے کہ اس سے پہلے بھی بارہا احمدیت کی خاطر ان کو تکلیفیں پہنچیں۔مردان میں ان پر چھری سے وار کیا گیا پھر سرگودھا میں جو 1974ء کا واقعہ گزرا ہے وہاں ریلوے اسٹیشن پر جن کو گولیاں لگیں ان میں یہ بھی شامل تھے اور جب گولی لگی تو انہوں نے فرمایا یہ تو کچھ بھی نہیں ، یہ تو ابھی آغاز ہے یعنی ارادہ اسی وقت سے شہادت کا تھا اور اسی نیت کے ساتھ یہ ہمیشہ زندہ رہے۔اب اس واقعہ کا پس منظر یہ ہے کہ رشید احمد خان صاحب جو ڈاکٹر تھے ان کی تبلیغ سے ایک جگہ مٹہ مغل خیل میں ایک دوست تھے جو ملازمت بھی کرتے تھے اور وکالت بھی کرتے تھے ان کو احمدیت میں داخل ہونے کی توفیق نصیب ہوئی۔وہ چونکہ ایک طاقتور پٹھان خاندان سے تعلق رکھتے تھے اس لئے ان کی احمدیت پر وہاں بڑا سخت رد عمل ہوا اور تمام علاقے میں ان کے متعلق قتل کے فتوے