خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 255
خطبات طاہر جلد 14 255 خطبہ جمعہ 14 اپریل 1995ء جاری ہونا شروع ہوئے۔ان کے بھائیوں میں سے ایک بھائی جو بہت ہی زیادہ متشدد تھا اس نے تو سب سے زیادہ مخالفت کی حد کی اور علماء کولا کر ان کے قتل کے لئے فتوے حاصل کئے۔ملاں فضل ربی اس علاقے کا ایک ملاں ہے جو اس معاملے میں سب سے زیادہ بدبختی کا نمونہ دکھاتا رہا اور کثرت کے ساتھ لوگوں میں ان کے خلاف انگیخت کرتا رہا لیکن جہاں تک اس نو مبائع دوست کا تعلق ہے ان کے متعلق میں آپ کو بتادوں ان کا ذکر یہاں لکھا ہوا ہے۔(وہ واقعہ جو میں نے پڑھا تھا اس کی تفصیل شاید میں ساتھ لانا یعنی تحریری تفصیل ساتھ لانا بھول گیا ہوں یا کہیں رہ گیا ہے لیکن زبانی طور پر مجھے یاد ہے وہ میں آپ کو بتاتا ہوں )۔ان کا نام دولت خان ہے اور جب ان کی بیعت کا واقعہ مشہور ہوا تو بھائیوں نے بھی مخالفت کی اور علماء کو بلا کر ان سے گفتگو کروائی۔جب علماء نے گفتگو کی تو انہوں نے کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھا اور اپنا موقف بیان کیا کہ میں کیا سمجھتا ہوں اس پر وہ علماء جو ان سے بحث کے لئے آئے تھے ان میں چونکہ شرافت تھی انہوں نے اسی مجلس میں یہ اعلان کیا کہ جو باتیں انہوں نے بیان کیں ہیں ان میں کوئی بھی کفر کی بات نہیں اس لئے ان پر مرتد ہو کر قتل کرنے کا فتویٰ صادر نہیں کیا جاسکتا۔اس پر ان کے پانچ بھائی تو ان کے ساتھ ہو گئے اور ایک بھائی مخالفت پر قائم رہا جب ان کو بہت زیادہ ستایا گیا اور گالیاں دی گئیں تو یہ چونکہ وہ جگہ چھوڑ کر ہجرت کرنے کا ارادہ کر کے گھر سے نکلے اس لئے وہ جو پانچ بھائی تھے ان میں سے بعض نے ان کا پیچھا کیا اور کہا کہ ہم راضی ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں تم واپس آجاؤ۔جو شریر بھائی تھا اس نے ایک اور ملاں سے جو افغانستان سے ہجرت کر کے آیا ہوا ہے اس سے دوبارہ قتل کا فتویٰ لیا اور اس نے تعدا د تو معین نہیں لیکن علاقے کے بہت سے لوگوں کا مجمع اکٹھا کر کے ان کے قتل کا فتویٰ لیا۔یہ تفصیل بیان کرنا اس لئے ضروری ہے کہ اس کا بعد میں آنے والے واقعات سے ایک تعلق ہے۔یعنی موجود علماء نے ان سے گفت و شنید کے بعد ان کے متعلق یہ فیصلہ دیا کہ ان کے عقائد میں کوئی بات بھی اسلام کے خلاف نہیں ہے اس لئے ان پر ارتداد اور قتل کا فتویٰ نہیں دیا جاسکتا۔بعد میں ایک افغان ملاں کو جو تشد د تھا لایا گیا اور اس نے ان کے قتل کا فتویٰ صادر کیا۔اس کے باوجود یہ وہاں موجود رہے اور چونکہ شرارت کے بڑھنے کا خطرہ پیدا ہوا اس لئے پولیس نے ان کو نقص امن کی دفعہ لگا کر جیل میں ڈال دیا اور اس کے ساتھ ان کے بعض بھائیوں، عزیزوں کو بھی جیل میں ڈالا گیا لیکن ان کی ضمانت فوراً کروالی گئی اور ان کی ضمانت کسی نے نہ دی۔