خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 253 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 253

خطبات طاہر جلد 14 253 خطبہ جمعہ 14 / اپریل 1995ء کے سوا کسی اور کے متعلق قرآن کریم میں بیان نہیں ہوا۔پس اس پہلو سے ان کی خوش نصیبی اور ان کی سعادت غیر معمولی مقام رکھتی ہے اور بعد کی تاریخ بھی ہمیشہ ان کے ذکر کو زندہ رکھتی ہے اور زندہ رکھے گی۔پس اس پہلو سے مشکل یہ در پیش ہوتی ہے کہ ایک طرف ان کی جدائی کا صدمہ پیچھے رہنے والوں کو اور ان کے پسماندگان کا احساس دوسری طرف سعادت اتنی عظیم اور غیر معمولی ہے کہ اس کا خوشی سے ذکر نہ کرنا بھی ایک قسم کی ناشکری ہے۔پس اس لحاظ سے جب چوہدری ریاض احمد صاحب کی پشاور سے شہادت کی اطلاع ملی جو شب قدر میں ہوئی تو اس وقت پہلے جو دل میں صدمے کا احساس پیدا ہوا اس پر پھر طبیعت استغفار کی طرف مائل ہوئی اور اللہ تعالیٰ سے میں نے بڑی التجا سے معافی مانگی اس خبر پر مجھے صدمہ کیوں پہنچا ہے جبکہ تیرا حکم یہ ہے کہ خوش نصیب لوگ ہیں بڑے مراتب پانے والے ہیں لیکن انسانی نفس کی کمزوری اس کے ساتھ لگی رہتی ہے اور ایسے مشکل مواقع پر صدمے اور غم کے اندر تفریق کرنا بہت مشکل کام ہے۔بہر حال چوہدری ریاض احمد صاحب جن کی شہادت کا ذکر مختلف انٹر نیشنل نیوز ایجنسیز کے ذریعے دنیا میں پہلے ہی پہنچ چکا ہے ان کا واقعہ بہت اہمیت رکھتا ہے اور جماعت کی تاریخ میں یہ شہادت ایک خاص مقام رکھتی ہے۔اس کی وجہ کیا ہے یہ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔شب قدر میں جو واقعہ گزرا ہے اس کا پس منظر یہ ہے کہ مردان کے ایک مخلص دوست چوہدری ریاض احمد صاحب جو ڈاکٹر رشید احمد صاحب کے داماد تھے۔ڈاکٹر رشید احمد خان صاحب کو ہمیشہ سے تبلیغ کا بہت ہی جنون اور شوق رہا ہے یہاں تک کہ خدا کی راہ میں پہلے بھی ان کو شدید مشکلات کا سامنا رہا لیکن انہوں نے کبھی کوئی پرواہ نہیں کی۔1974ء میں ڈاکٹر رشید احمد خان صاحب کے اوپر بندوقیں تان کر ان کے سینے سے لگا کر ان سے کہا گیا کہ تم ابھی بھی تو بہ کر لو اور مسلمان ہو جاؤ۔انہوں نے کہا میں تو مسلمان ہوں، لا الہ الا الله محمد رسول اللہ میراکلمہ ہے اس پر میرا ایمان ہے اور کیسے مسلمان بنوں۔انہوں نے کہا نہیں اس طرح نہیں مرزا صاحب کو حضرت مسیح موعود (علیہ الصلواۃ والسلام ) کو گالیاں دوتب تم مسلمان کہلاؤ گے۔انہوں نے کہا نعوذ باللہ من ذالک یہ اسلام تو میں نے کہیں نہیں پڑھا۔حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے جو اسلام سکھایا ہے اس میں کسی کو گالیاں دینا تو کہیں اسلام