خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 252
خطبات طاہر جلد 14 252 خطبہ جمعہ 14 اپریل 1995ء سے نہیں ملے یعنی پیچھے رہ گئے مِنْ خَلْفِهِمْ ان کے بعد پیچھے رہ گئے ہیں۔اَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ کہ ان پر بھی کوئی خوف نہیں ہے اور وہ غم نہیں کریں گے۔يَسْتَبْشِرُون بِنِعْمَةٍ مِنَ اللهِ وَفَضْلٍ وہ اللہ سے نعمت کی خوشخبریاں پاتے ہیں اور اس کے فضل کی اور اس بات کی اَنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ کہ اللہ مومنوں کا اجر ضائع نہیں فرماتا۔دنیا میں زندگی اور موت کا ایک تو جاری سلسلہ ہے۔لاکھوں کروڑوں انسان پیدا ہوتے ہیں اور ایک دن میں مرتے بھی ہیں اور ان کا کوئی شمار نہیں، کسی گفتی میں نہیں آتے۔لیکن بعض جو خدا کی راہ میں قربانی کرنے والے ، خدا کی راہ میں غیر معمولی اللہ تعالیٰ کے ساتھ وفا کے نمونے دکھانے والے لوگ ہیں ان کا ذکر اس دنیا میں بھی خیر کے ساتھ جاری ہوتا ہے بلکہ ملاء اعلیٰ میں بھی خیر کے ساتھ جاری ہوتا ہے اور پھر آنے والی نسلوں میں ہمیشہ ہمیش کے لئے ان پر سلام بھیجے جاتے ہیں۔پس زندگی اور موت تو ایک عام جاری و ساری سلسلہ ہے۔خوش نصیب وہ ہوتے ہیں جن کو خدا کی راہ میں قربانیاں دیتے ہوئے ، خدا کی راہ میں ، خدا کی رضا کی خاطر ، بڑے بڑے کارنامے سر انجام و ہوئے موت آئے اور ان اموات میں سب سے بلند تر وہ مرتبہ ہے جو شہید کا مرتبہ کہلاتا ہے یعنی روزمرہ کی زندگی میں عام لوگ جو خدمت دین میں وفات پاتے ہیں انبیاء کو چھوڑ کر اور صدیقوں کو چھوڑ کر جو ایک بہت ہی بلند تر مراتب کی باتیں ہیں ان سے نیچے سب سے بلند مرتبہ شہداء کا ہے اور اسی ترتیب سے اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے اور ان کے بعد پھر صالحین کی باری آتی ہے۔تو شہداء کی وفات کا تذکرہ موت کے ساتھ کرنا جائز نہیں کیونکہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ ان کو مردے ہر گز نہ کہو۔اس لئے یہ مضمون بیان کرنا بہت سی مشکلات کا حامل ہے، بہت سی مشکلات راہ میں رکھتا ہے۔ایک طرف جانے والوں کی جدائی کا صدمہ اور پیچھے رہنے والوں کا احساس دل کو غمگین کرتا ہے دوسری طرف اتنی عظیم سعادت ان کا پا جانا کہ ان کے سوا کسی اور دنیا چھوڑنے والے کے متعلق اللہ نے یہ نہیں فرمایا بَلْ أَحْيَاء عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ کہ وہ زندہ ہیں اور خدا کے حضور رزق دیئے جارہے ہیں۔باقی فوت شدگان کے متعلق ہم تفصیل سے کچھ نہیں جانتے تفصیل سے تو ان کے متعلق بھی کچھ نہیں جانتے مگر یہ خصوصی ذکر کہ وہ زندہ ہیں تمہیں علم نہیں کہ کیسے زندہ ہیں اور یہ کہ خدا کے حضور وہ رزق جن کی ان کو ضرورت ہے یعنی روحانی زندگی میں وہ ان کو عطا ہورہا ہے یہ ان