خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 224 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 224

خطبات طاہر جلد 14 224 خطبہ جمعہ 31 / مارچ 1995ء کو بھیجنا بند کر دیں، ٹال دیں اس وقت کیونکہ بہت قوی دشمن ہر طرف سے مدینے پر حملہ آور ہونے والا ہے۔حضرت ابوبکر کا جواب اس وقت یہ تھا کہ ابن ابی قحافہ کی کیا مجال ہے، یہ کون ہوتا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کا آخری فیصلہ ہو اور یہ خلیفہ بن کر اپنے پہلے فیصلے میں اس فیصلے کو منسوخ کرنے والا ہو۔کیسے ہوسکتا ہے۔ایک ایسی عظیم دلیل تھی جسے صدیق دل ہی سمجھ سکتا تھا اس وقت اور کسی کو سمجھ نہیں آئی۔بلا استثناء سب نے سرتسلیم خم کر دیا اور حضرت ابو بکڑ نے پھر یہ فرمایا کہ دیکھو اس فیصلے کی میرے نزدیک اتنی اہمیت ہے کہ خدا کی قسم اگر مدینے کی گلیوں میں مسلمان عورتوں اور بچوں کی لاشیں کتے گھسیٹتے پھریں تب بھی میں اس فیصلے کو نہیں بدلوں گا کیونکہ میرے آقا محمد رسول اللہ کا یہ آخری فیصلہ ہے۔بہر حال اسی طرح عمل ہوگا۔تو خلافت صرف خدا ہی کے حضور سر نہیں جھکاتی ، اپنے سے پہلے اولوالامر کے حضور بھی اس طرح سر جھکاتی ہے کہ کامل طور پر اس کا اپنا وجود مٹ کر اپنے آقا کے وجود میں جہاں تک اطاعت کا تعلق ہے تبدیل ہو جاتا ہے۔پس یہ بھی ایک ایسا معاملہ ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ خلفاء نے بھی یہی سمجھا اس آیت کا مفہوم کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد جو بھی امت محمدیہ میں صاحب امر بنایا جائے گا، اگر خدا براہ راست بنائے تو وہ امام مہدی کے طور پر آیا اور گز ربھی گیا لیکن جو بھی بنایا جائے گا بطور خلیفہ کے اس پر بھی اسی آیت کا اطلاق ہوگا۔جب وہ فیصلے کرے گا، تو مشورے ضرور کرے گا لیکن مشوروں کے بعد فیصلہ خلیفہ وقت کا ہوگا اور جو وہ فیصلہ کرے گا اسے خدا کی تائید حاصل ہوگی اور پھر اس کا کام بھی تو کل ہے اور وہ تو کل ہی کرے گا تو وہ فیصلہ کرے گا لیکن یا درکھو کہ اس کے علاوہ بھی متوکلین کی ضرورت پیش آئے گی۔صل الله اِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكَّلِينَ که صرف محمد رسول اللہ ﷺ کے فیصلے پر آپ کا توکل نہیں، تم سب کو تو کل کرنا ہو گا۔تم سب کو اس یقین کا مظاہرہ کرنا ہوگا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے کے ساتھ اللہ بھی شامل ہے اور اس کو خدائی تائید شامل ہے اس لئے اللہ پر توکل کرنا اور بڑی عظیم بات اس میں یہ نکلی کہ حضرت محمد رسول اللہ اللہ کے فیصلے کی عظمت تو کل کے نتیجے میں تھی ورنہ ذاتی طور پر اپنی صلاحیتوں پر آپ کے فیصلے کو کوئی طاقت نہیں ملتی تھی۔تو کل ہی جان ہے اس فیصلے کی اور توکل کامل