خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 225
خطبات طاہر جلد 14 225 خطبہ جمعہ 31 / مارچ 1995ء تقویٰ کے نتیجے میں نصیب ہوتا ہے اور کامل ایمان کے نتیجے میں نصیب ہوتا ہے۔پس محمد رسول اللہ کا فیصلہ توکل کے ساتھ ایک لازم و ملزوم کا تعلق رکھتا تھا۔ہر فیصلے پر اس لئے تو کل تھا کیونکہ آپ جانتے تھے کہ کلیتہ خدا کی خاطر فیصلہ ہے اس میں کوئی نفس کی ملونی نہیں ہے اور جو فیصلہ خدا کی خاطر اتنا بے لوث اور پاک اور خالص ہو یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اللہ اس فیصلے کی غیرت نہ دکھائے۔پس فرمایا تم بھی ایسے ہی تو کل کا نمونہ دکھاؤ جیسے محمد رسول اللہ ﷺ نے دکھایا اور اس کے نتیجے میں خدا نے آپ کی پشت پناہی کا ایک عظیم وعدہ فرمایا۔ہر فیصلے کو قبول کیا کہ ہاں میں اس فیصلے کی حمایت کروں گا۔پس تم بھی متوکل بنو کیونکہ اللہ کی محبت چاہتے ہو، اللہ سے محبت چاہتے ہو تو تو کل کرنے والوں سے اللہ محبت کرتا ہے۔پس ایک تو یہ شوریٰ کا مضمون ہے جو سب دنیا میں جماعت پر خوب اچھی طرح روشن ہونا چاہئے۔دوسرا سوری بَيْنَهُمُ سے متعلق یہ بات پیش نظر رکھنی چاہئے کہ اس سے مرا دضروری نہیں ہے کہ خلیفہ وقت طلب کرے یا ایک امیر طلب کرے تو پھر مشورے ہوں۔مشورے کا رواج مسلمانوں میں جس شان اور جس کھلی وضاحت کے ساتھ قرآن میں ملتا ہے یعنی قرآن کے ذریعے مسلمانوں کو یہ رواج عطا ہوا ہے، دنیا کی کسی اٹھی کتاب میں یہ بات نہیں ملتی۔وہ جو قرآن کی امتیازی شانیں ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے۔مشورے کا اور شوریٰ کا جو نظام وقت کے امام اور عامتہ المسلمین کے حوالے سے کھول کر بیان فرمایا گیا ہے اس کی کوئی نظیر دنیا کے کسی مذہب میں نہیں ملتی۔نکال کر دکھا ئیں۔آپ کو کہیں کوئی ذکر نہیں ملے گا۔پس یہ کامل کتاب ہے۔اس کے ارشادات میں بہت سی حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔محض سرسری نظر سے مطالعہ کر کے یہ سمجھ لینا کہ ہم نے مضمون کو سمجھ لیا ہے یہ کافی نہیں ہے۔وَاَمْرُهُمْ شُوری بَيْنَهُمْ میں ایک جاری اور ساری مستمرہ مضمون ہے مسلمانوں کی یہ عادت ہے، مومنوں کی یہ عادت ہے ، فطرت ثانیہ بن چکی ہے کہ ہر بات میں خواہ وہ ذاتی ہو، خواہ وہ جماعتی ہو، کسی نوعیت کی بھی ہو وہ مشورے ضرور کرتے ہیں اور یہ جو مشورے ہیں ان میں فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى الله کا ذکر نہیں فرمایا اس لئے وہ ایک آدمی کے مشورے کا سوال نہیں ہے یہ ایک جاری مسلمانوں کی ایک ایسی خوبصورت عادت کا ذکر ہے جو ان کو تقویت عطا کرتی ہے اور جس کے