خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 215 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 215

خطبات طاہر جلد 14 215 خطبہ جمعہ 31 / مارچ 1995ء وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيُّ حَمِيمٌ وَمَا يُلَقَّهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقْهَا إِلَّا ذُو حَظِّ عَظِيمٍ (لم عبده 36:35) کہ دوستوں کے دل جیتنا اگر وہ سخت دل ہوں یہ بھی مشکل کام ہے۔بعض دوستوں کے دل بظاہر انسان جیت لیتا ہے لیکن ایک وقت کا استغناء ، ایک وقت کی بے اعتنائی انہیں پھر دھکا دے کر دور پھینک دیتی ہے جیسے کہا جاتا ہے کہ : اک ذراسی بات پر برسوں کے یارانے گئے یہ عجیب دوستی تھی کہ چھوٹی سی بات پر برسوں کی دوستیاں ٹوٹ گئیں اور یارا نے ختم ہو گئے اور انسان اس معاملہ میں تمام دوسری مخلوقات سے زیادہ بے وفائی دکھانے کی صلاحیت رکھتا ہے چنانچہ ایک فارسی رباعی میں انسان کا کتے سے موازنہ کیا گیا ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ دیکھو ایک کتا وہ چیز ہے کہ جس کو تم ایک روٹی ڈال دو پھر سو پھر اس کو مارو تو وہ تمہیں نہیں کاٹے گا۔دینے والے ہاتھ کا لحاظ کرے گا اور انسان ایسی چیز ہے کہ اس پر سواحسان کرو اور ایک بے اعتنائی کرو تو وہ تم پر پتھراؤ شروع کر دے گا۔تو ایسی قوم تھی عرب جو اس انسانی سرشت میں سب دوسرے انسانوں اور سب قوموں سے آگے بڑھ گئی تھی اس کو حضرت محمد مصطفی ﷺ نے دل جیت کر اطاعت پر آمادہ فرمایا ہے۔اس مضمون کا شوری سے کیا تعلق ہے وہ میں آگے جا کر بیان کرتا ہوں۔فَاعْفُ عَنْهُمُ پس تو نے دل تو رام کر لئے لیکن تجھ میں تو وہ طاقت ہے کہ تو دشمنوں کے دل بھی رام کر سکتا ہے۔اپنوں نے تو تیرا فدائی ہونا ہی تھا۔فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ خدا تعالیٰ فرما رہا ہے اگر تم ان ہدایتوں پر عمل کرو جو میں دے رہا ہوں تو اچانک دیکھو گے کہ جو تمہارے جان کے دشمن ہیں وہ جاں نثار دوست بن جائیں گے۔خون کے پیاسے خون نچھاور کرنے والے بن جائیں گے لیکن یہ نصیب انہیں لوگوں کو ہو سکتا ہے جو بہت صبر کرنے والے ہوں اور یہ اس شخص کے حصے میں خصوصیت سے سعادت آئی ہے جس کو خدا نے غیر معمولی اخلاق کا حصہ عطا فرمایا ہے۔ذُو حَظِّ عَظِیمٍ اور یہاں حضرت محمد رسول الله الله مراد ہیں۔پس آپ نے پہلے اخلاق سے محبت اور پیار سے ان کے اندر پاک