خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 195 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 195

خطبات طاہر جلد 14 195 خطبہ جمعہ 24 / مارچ 1995ء معبودیت کو یعنی ایسا وجود جس کی عبادت کی جائے اس کو الہ“ کہتے ہیں اللفظ جبال اله پر لگ گیا تو پھر ایک ہی وجود کے لئے خاص ہو گیا یعنی جس کو ہم اللہ کہتے ہیں اور ال الہ میں سے الف بھی بیچ کا گر گیا اور اللہ بن گیا۔اس سلسلے میں اور علماء مثلاً صاحب کشاف نے بھی ، علامہ زمخشری نے بھی یہی مضمون بیان کیا ہے۔سیبویہ کے حوالے سے بھی یہ بیان کیا گیا ہے، بہت سے علماء اس کو مشتق کہتے ہیں لیکن اس کے باوجود خدا کا ذاتی نام بھی قرار دیتے ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے بڑی وضاحت کے ساتھ اس کو اسم جامد قرار دیا ہے اور فرمایا یہ بالکل غلط ہے کہ دوسرے کسی مادے سے بنایا گیا ہے بلکہ وہ نام ہے جو اللہ کا نام ہے اور اللہ ہی کا ہے۔اس میں اس کے معانی میں کوئی اور شریک نہیں ہے اور جہاں تک اس کے معانی کا تعلق ہے آپ یہ نہیں فرماتے کہ چونکہ یہ مشتق نہیں ہے کسی با معنی لفظ سے نہیں نکلا ہوا اس لئے بے معنی ہے۔یہ فرق ہے آپ کے مؤقف میں اور گزشتہ جو مفکرین اسلام میں گزرے ہیں ان کے موقف میں۔آپ فرماتے ہیں جامد ہے مگر جامد ان معنوں میں یعنی یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریروں سے جو میں سمجھا ہوں وہ میں اپنے لفظوں میں بیان کر رہا ہوں۔جامد ان معنوں میں کہ ہر شخص جو کسی چیز کا نام رکھتا ہے وہ ایک قسم کی اصطلاح بنتی ہے اور جو اصطلاح بنانے والا ہے وہ اس اصطلاح کے معانی بھی بتاتا ہے۔پس اگر چہ کہ وہ اصطلاح کسی اور چیز سے نہ بنی ہومگر جب کسی چیز پر اطلاق پاتی ہے تو اس کے معانی کا بیان اس کے بنانے والے کا فرض ہے۔پس اللہ نے جب اپنا نام اللہ بتایا تو یہ درست نہیں ہے کہ یہ بے معنی نام ہے۔مگر اس کے معانی کیا ہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کیونکہ دوسرے تمام الفاظ یا اسماء جو معنی سے تشکیل پاتے ہیں اس کے معانی تو سب جانتے ہیں مگر اس کا معانی کوئی اور جان ہی نہیں سکتا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کا نام بیان فرمایا ہے۔پس اللہ ہی ہے جو اس کے معانی بیان کرتا ہے۔پس جوں جوں ان معانی پر نظر پڑتی چلی جاتی ہے لفظ اللہ غیر معمولی طور پر اپنے معانی کے لحاظ سے وسعت اختیار کرتا چلا جاتا ہے اور جتنے زیادہ معانی اس کے بیان کئے جائیں اتنا ہی یہ با معانی لفظ بن جائے گا مگر مشتق پھر بھی نہیں ہوگا۔یعنی پھر اس کے حوالے سے دوسری چیزوں کے معانی سمجھے جائیں گے۔اب اس کی مثال یہ ہے کہ اگر ہم کہتے ہیں کہ الله هو الرحمن یا اس آیت کو جس کی میں