خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 194
خطبات طاہر جلد 14 194 خطبہ جمعہ 24 / مارچ 1995ء مرکزی نام کا ذکر کئے بغیر یہ مضمون آگے نہیں بڑھ سکتا۔لفظ اللہ کیا ہے؟ قرآن کریم کے بیان کے مطابق اللہ کا نام اللہ ہے اور اس نام میں اور کوئی شریک نہیں ہے اور کبھی بھی انسان نے خدا کے سوا یہ کسی اور شخص پر اطلاق ہوتا ہوانہیں دیکھا۔تو ان معنوں میں اللہ کا لفظ وحید ہے ، واحد ہے، احد ہے، اس میں کوئی غیر ، نام میں شامل نہیں ہے۔یہ پہلو بہت اہم ہے کیونکہ اس پہلو پر غور کرتے ہوئے انسان تمام عبادت کی تاریخ پر نظر ڈالے تو اس میں یہی سچائی ہمیشہ دکھائی دے گی کہ غیر معبودوں کی پرستش کی گئی یعنی فرضی معبودوں کی ، ان کے مختلف نام بھی رکھے گئے مگر تمام انسانی تاریخ میں کبھی کسی معبود کا ناماللہ نہی رکھا گیا اور اس نام میں وہ بلا شرکت غیرے اکیلا ہے۔سوال یہ ہے کہ یہ نام کچھ معنی رکھتا ہے یا محض ایک نام ہے؟ اس سلسلے میں علماء یہ گفتگو کرتے ہیں کہ بعض نام مشتق ہوتے ہیں اور بعض جامد۔مشتق اس نام کو کہتے ہیں جو نام تو ہے مگر بعض ایسے دوسرے معانی سے تشکیل پاتا ہے یا ترکیب پاتا ہے جو عام ہے۔ان سے ایک نام بنایا جاتا ہے اور ایک شخص کو دے دیا جاتا ہے۔مثلاً حامد ہے محمود ہے، مبارک ہے ، یہ سارے وہ نام ہیں جو حمد اور برکت سے نکلے ہوئے ہیں اور ان ناموں میں اگر چہ جب کسی کی طرف منسوب کر دیے جائیں تو خصوصیت آجاتی ہے مگر بنیادی طور پر معنے وہی ہیں جن معنوں سے وہ نام اٹھائے گئے ہیں جن معنوں سے وہ بنائے گئے ہیں تو معنے والے نام وہ نام ہیں جو کسی ایک مٹی سے تشکیل پاتے ہیں اور اس مٹی کو گوندھ کر اس کا ایک نام بنادیا جائے تو اس کو مشتق نام کہتے ہیں۔اور جامد اس کو کہتے ہیں جس کا نام رکھنے والا خود ہی اس کا خالق ہے اور کوئی اس نام کو تجویز نہیں کرتا اور معنوں کے لحاظ سے کسی عام معنی سے وہ نہیں نکلے ہوئے۔اس تعلق میں جو پرانے علماء نے بحثیں اٹھائی ہیں ان میں سے بعض لوگ تو شدت کے ساتھ اللہ کے جامد ہونے پر زور دیتے ہیں اور اسی پر بات کو ختم کر دیتے ہیں کہ اللہ ایک ایسا نام ہے جو محض نام ہے اس میں اور کوئی معنی نہیں پائے جاتے اس لئے یہ بحث ہی جائز نہیں ، اس بات میں سوچنا بھی گناہ ہے کہ اللہ کے کیا معنی ہیں اور بعض دوسرے ہیں جن میں بڑے بڑے چوٹی کے ائمہ بھی شامل ہیں مثلاً امام راغب بھی ان میں سے ہی ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ دراصل یہ مشتق ہے لفظ الہ“ سے۔الوہیت اس کا مادہ ہے۔الوہیت کہتے ہیں