خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 196
خطبات طاہر جلد 14 196 خطبہ جمعہ 24 / مارچ 1995ء نے تلاوت کی تھی اس میں وَالهُكُمُ الهُ وَاحِدٌ لا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ كه الله کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے، اللہ ہی ہے اور اس کا تعارف کیا ہے الرَّحْمٰنُ الرَّحِيمُ تو رحمن کے معنی اللہ کی ذات کے حوالے سے سمجھے جائیں گے۔رحم کے حوالے سے اللہ مجھ نہیں آئے گا بلکہ اللہ جن معنوں میں ہے رحمن ہے ان معنوں میں رحمانیت کے بدرجہ تام معنے ، بدرجہ کمال معانی سمجھ آجائیں گے۔ورنہ عام مادہ سے نکلا ہوا لفظ رحمن عام انسانوں پر بھی بولا جاتا ہے۔ماں بھی رحمن ہوتی ہے، بعض معانی میں باپ بھی ، دوسرے عزیز ، محبت کرنے والے، جانوروں پر رحم کرنے والے بھی رحمن ہو سکتے ہیں لیکن ان کے اندر رحمانیت کے معنی محدود ہیں لیکن جب اللہ کے حوالے سے رحمانیت کو سمجھا جائے تو معانی لامحدود ہو جائیں گے۔پس اس طرح تمام اسماء باری تعالیٰ جو دراصل خدا تعالیٰ کی صفات ہیں وہ اللہ سے تشکیل پاتی ہیں اور اللہ کے لفظ کے گرد گھومتی ہیں اور اللہ کا لفظ ان کے اندر لا متناہی وسعتیں پیدا کر دیتا ہے۔پس اس پہلو سے صفات باری یا اسماء باری تعالیٰ پر غور ہونا چاہئے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی عبارت یہ ہے۔اب ہم بسم الله الرحمن الرحیم کی تفسیر کا خلاصہ دوبارہ بیان کرتے ہیں“۔یہ در اصل عربی عبارت کا ترجمہ ہے جو اعجاز اسیح سے لی گئی ہے۔ثم نكرر خلاصته الكلام فی تفسیر بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، پس اب ہم بسم الله الرحمن الرحیم کی تفسیر کا خلاصہ دوبارہ بیان کرتے ہیں۔پس واضح ہو کہ اللہ کا لفظ جامد ہے۔یعنی کسی اور مادے سے تشکیل نہیں پایا بلکہ اللہ نے اپنا نام بیان فرمایا ہے اور اس کے معنی، بے معنی قرار دیا ، یہ فرق ہے جو بہت ہی نمایاں ہے اور ایک عارف باللہ کا اور ایک عام انسان کا جو غیر معمولی فرق ہے وہ اس سے ظاہر ہوتا ہے۔جامد کو اکثر لوگ بے معنی کہتے ہیں اور اس کے معنی سوائے نام کے اور کچھ نہیں۔کہتے ہیں جو چاہے نام کسی چیز کا رکھ دے وہ پابند نہیں ہے اور جو نام ہے وہ بے معنی بھی ہو سکتا ہے، بامعنی بھی ہو سکتا ہے۔تو جامد کی تعریف میں بالعموم معنی کا فقدان داخل کر دیا گیا ہے جو غلط ہے یعنی ان معنوں میں حضرت مسیح موعود فرما رہے ہیں کہ اللہ جامد ہے یعنی کسی اور مادے سے تشکیل نہیں پایا لیکن اس کے معنے سوائے خدائے علیم وخبیر کے اور کوئی نہیں جانتا اور اللہ تعالیٰ عزاسمہ نے اس آیت میں اسم کی حقیقت بتائی ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ اس ذات کا نام ہے جو رحمانیت اور