خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 192
خطبات طاہر جلد 14 192 خطبہ جمعہ 17 / مارچ 1995ء عبارتوں کو آپس میں جوڑ کر ان پر اجتماعی غور نہ کیا جائے اس وقت تک صفات باری تعالی پہ غور محض حمد کہنے پر یا قادر کہنے پر یا علیم اور حکیم کہنے پر ہو ہی نہیں سکتا۔پھر اس غور میں اور بھی مسائل ہیں ، خدا کہتا ہے ہم نے جوڑے جوڑے پیدا کیا اور صفات کے بھی اکثر جگہ جوڑے جوڑے ہی بیان فرمائے ہیں۔علیم حکیم علیم قدیر ، رحمن رحیم ، تو یہ بھی بڑا وسیع مضمون ہے کہ وہ جوڑے کیا معنے رکھتے ہیں۔ان میں زمانہ تو نہیں پایا جا تا مگر ان کے ملنے سے دوسری صفات پھوٹتی ہیں جس طرح Chemical Reaction سے دو چیزوں کو ملانے سے ایک اور Synthesis ہوتا ہے ایک اور چیز پیدا ہو جاتی ہے اسی طرح وہ تو وقت کی محتاج ہے مگر خدا کا یہ جو صفات کا تعلق نئے مضمون کو پیدا کرتا ہے یہ وقت سے بالا ہے۔یہ فرق ہے کیونکہ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٍ اپنی مخلوق سے وہ مشابہ نہیں ہے۔اس لئے جب ہم مثالیں بیان کرتے ہیں تو صرف سمجھانے کی خاطر ورنہ حقیقت میں اس سے زیادہ آگے یہ بات خدا کے اوپر اطلاق نہیں پاتی۔پھر خدا تعالیٰ کے اپنے کلام کے حوالے سے اس مضمون کو مزید سوچا جا سکتا ہے تو اب چونکہ وقت ہو گیا ہے انشاء اللہ باقی باتیں پھر، اسم اعظم بھی بتانے والی بات ہے اسم اعظم کس کو کہتے ہیں، کیا معنے رکھتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا لفظ مشتق ہے یا جامد ہے۔یہ چار صفات کیوں چنی خدا تعالیٰ نے اور باقی صفات کو کیوں چھوڑ دیا وغیرہ وغیرہ۔یہ مضمون کچھ تو میں پہلے سورہ فاتحہ کی تفسیر میں بیان کر چکا ہوں لیکن کوشش کروں گا کہ ان کے علاوہ کچھ مضامین جن کا اس زمانے والی بات سے تعلق بنتا ہے جس حد تک ممکن ہے وہ بیان کروں اور پھر خواہ میرے نزدیک تعلق بنے یا نہ بنے ، صفات باری تعالیٰ کا اسماء کا جو مضمون ہے یہ اور بھی جس طرف ہمیں لے کے جائے گا، کوئی پابندی تو نہیں کہ صرف زمانے کے حوالے سے بات ہو۔اس رؤیا کا ایک یہ بھی مقصد ہو سکتا ہے کہ اسماء کی بات کرو اور اسماء ہیں جو ہر چیز کا منبع ہیں اور اس سے مزید ترقیات عطا ہوں گی اور ہم ایسے دور میں ہیں کہ آئندہ کا زمانہ ہمارے سپرد کیا جانے والا ہے۔حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی مالکیت اب کل عالم پر جلوہ دکھانے والی ہے اور خدا نے ہم عاجزوں اور نکموں کو چن لیا ہے تو وہی طاقت بخشے گا، وہی صلاحیتیں عطا کرے گا لیکن وہ صلاحیتیں اسماء باری تعالیٰ پر غور کے نتیجے میں حاصل ہوں گی۔اللہ تعالیٰ ہمیں تو فیق عطا فرمائے۔آمین