خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 193 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 193

خطبات طاہر جلد 14 193 خطبہ جمعہ 24 / مارچ 1995ء وو اللہ خدا تعالیٰ کا ذاتی نام ہے۔اللہ کے معنی اسم اعظم کے ہیں جو تمام صفات کا ملہ سے متصف ہے۔( خطبه جمعه فرموده 24 / مارچ 1995ء بمقام بيت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت کریمہ تلاوت کی۔وَالهَكُمُ اللَّهُ وَاحِدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ پھر فرمایا:۔(البقره: 164) اور تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمُ اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں الرَّحْمٰنُ الرَّحِيمُ وہ بے انتہاء رحم فرمانے والا ہے اور بار بار رحم کرنے والا ہے اور ہمیشہ۔رحم فرمانے والا ہے۔صفات باری تعالی بلکہ اسماء باری تعالیٰ کے ذکر میں آج کے مضمون میں میں سب سے پہلے تو لفظ اللہ سے متعلق کچھ تعارف کروانا چاہتا ہوں۔یہ مضمون بعض اور مطالب پر پھیلے گا لیکن سب سے پہلے اسماء کا جو مرکزی نقطہ ہے اس کے متعلق کچھ پہلے کی نسبت جماعت کو زیادہ علم ہونا چاہئے اور اکثریت ان باریک بحثوں کو غیر ضروری سمجھ کر ان کی طرف توجہ نہیں کرتی۔لیکن تمام پرانے علماء نے بھی اور پھر اس زمانے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی ان مضامین کو اٹھایا ہے اور ان کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے کیونکہ اسماء کا مضمون بہت اہم ہے اس لئے خدا تعالیٰ کے