خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 188
خطبات طاہر جلد 14 188 خطبہ جمعہ 17 مارچ 1995ء وقت جب تفریق کا وقت آئے گا ، جبکہ اندھیروں اور روشنی کے درمیان فیصلے کئے جائیں گے اور ایسا وقت ہوگا کہ ساری کائنات کی توجہ گویا اس وقت پر مرکوز ہے۔ اس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فضیلت دے دی تو جزوی فضیلت کیسے ہوگئی۔ یہ نفس کے بہانے ہیں یا اگر نفس کے بہانے نہیں تو متقی بھی ایسا فیصلہ کر سکتے ہیں مگر ان کو زیادہ غور کا موقع نہیں ملا پھر ۔ اس لئے میرا دل تو ایک لمحہ کے لئے بھی یہ مان نہیں سکتا خواہ آپ اس کو جزوی فضیلت کہیں یا کچھ اور کہیں کہ قیامت کے دن اس استثناء میں جس میں ” من “ کا ذکر قرآن کریم فرماتا ہے کہ سب کلیتہ اپنی صفات سے عاری ہو جائیں گے سوائے اس ایک کے یا چند کے جن کو میں چاہوں ، اس میں موسی تو ہوں محمد رسول اللہ ہوں ۔ لازماً حدیث کے سمجھنے میں کوئی غلطی کی گئی ہے لیکن میں تحقیق کروارہا میں بھی غلطی ہو سکتی ہے بعض لوگوں کے اپنے جو تصورات ہیں یا سوچیں ہیں وہ بعض ان کو بعض لفظوں کو سن کر بھی ان کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں کر سکتیں ۔ اس لئے وہ سمجھتے ہیں بعد میں شاید لفظ کہا گیا ہو۔ جو ہماری مرضی کے مطابق ہے، وہ نہیں کہا گیا ہوگا ۔ تو ایسے واقعات حدیث میں ملتے ہیں ایک جگہ نہیں کئی جگہ ملتے ہیں تو انشاء اللہ اس کی تحقیق کی جائے گی مگر اب میں واپس اسی مضمون کی طرف آتا ہوں کہ ملکیت سے کیا مراد ہے۔ مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ سے کہ وہ تمام صفات جن کو خدا نے مخلوق کو عطا کر رکھا ہوگا ان کی بھی صف لپیٹ دی جائے گی ۔ کلیہ مخلوق ان سے عاری ہو جائے گی سوائے ان کے یا اس کے جن کو اللہ چاہے کہ ان کو ہم نے اس سے عاری نہیں کرنا۔ اور میرے اس موقف کی تائید میں کہ وہ محمد رسول اللہ ﷺ ہیں حضرت اقدس مسیح موعود کی ایک قطعی فیصلہ کن تفسیر ہے جو اس موقف کی تائید کرتی ہے آپ فرماتے ہیں کہ پہلی صفات میں دوسرے نبی ان معنوں میں حصہ دار ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ان کو ان سے حصے عطا کئے۔ بعضوں کو رحمانیت کا مظہر الله اللہ ایسے بنائے بنایا بعضوں کو ربوبیت کا مظہر بنایا ، بعضوں کو رحیمیت کا مظہر بنایا مگر مالک صرف محمد رسول الله ﷺ گئے ہیں ۔ مالکیت کا مظہر سوائے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے کسی اور نبی کو نہیں بنایا گیا اور یہ يَوْمِ الدِّینِ کا رسول ﷺ ہے۔ تو دونوں باتوں کی تائید ہوگی کہ ایک يَوْمِ الدِّینِ تو بعد میں صلى الله آئے گا ایک يَوْمِ الدِّینِ ہے جو ابھی آچکا ہے یعنی آخری قیامت جو دنیا میں رونما ہوئی تھی ، وہ عظیم انقلاب جس میں ساری دوسری صفات چھین لی جائیں گی اور ایک ملکیت کے نکتے پر اکٹھی