خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 187
خطبات طاہر جلد 14 187 خطبہ جمعہ 17 / مارچ 1995ء خدا تعالیٰ کے جلوے پھر بانٹے جائیں گے، یہ دوسرا صور ہے۔پہلا صور زندگی بخش، ابتدائی زندگی والا بھی پہلا صور ہے اور موت کے وقت بھی ایک صور ہے جو واپسی کا حکم دے گا۔پس اصل اسرافیل وہ ہے جو تمام زندگی آغاز سے پیدا کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کے جاری کردہ نظام کا منتظم ہے، اللہ کی طرف سے مقرر فرمایا گیا ہے۔زندگی پیدا کرنے کی ساری طاقتیں اور صلاحیتیں اور سارا نظام اس کے تابع کام کر رہا ہے اور یہ صور بھی روزانہ پھونکا جا رہا ہے، ہرلمحہ پھونکا جارہا ہے۔جہاں موت زندگی میں بدلتی ہے وہاں یہ صور پھونکا جاتا ہے اس کے بغیر ہو ہی نہیں سکتا۔وو پھر وہ صور جس کا احادیث میں ذکر ہے ، قرآن کریم میں بھی ذکر موجود ہے ، ایسا صور جس کے نتیجے میں سب کلیہ کا لعدم ہو جائیں گے۔الا من يشاء سوائے اس کے جس کو اللہ چاہے۔یہ وہ مضمون ہے جس کو میں نے درس میں چھیڑا تھا ، ابھی اور اس پر تحقیق باقی ہے۔میرے نزدیک وہ حضرت محمد رسول اللہ اللہ ہیں، حضرت موسیٰ علیہ السلام نہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اٹھتے ہوئے دیکھا ہے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے۔یعنی بہر حال یہ ابھی بحث طلب بات ہے کیونکہ اس حدیث پر جب تک تحقیق نہ ہو اور تنقیحات نہ قائم ہوں ہم یقینی طور پر ابھی کوئی اعلان نہیں کر سکتے۔مگر قرآن کے مطالعہ سے اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات کے تعارف سے دل یہ تسلیم نہیں کرسکتا کہ من میں محمد رسول اللہ اللہ کے سوا کوئی اور مراد ہو۔اگر استثناء ہے تو اس کا ہونا چاہئے جس کو سب کی شفاعتوں کی اجازت ہے، تمام انبیاء بھی اس سے شفاعت پائیں گے۔اس ضمن میں ایک یہ بھی بات لوگ کہتے ہیں جی جزوی فضیلت تھی۔میں اس کا بھی ذکر کر دیتا ہوں۔ہمارے علماء جو خصوصاً پرانے علماء ہیں ان سے لے کر آج کل کے علماء بھی اپنے دل کو مطمئن کرنے کے لئے کہتے ہیں یہ جزوی فضیلت ہے اور یہ ایک علماء کا موقف ہے اور اس سے انکار نہیں کہ بعض دفعہ نبی پر ایک غیر نبی کو ایک جزوی فضیلت ہوتی ہے۔لیکن یہ مضمون وہ بھول جاتے ہیں جو نبی اور غیر نبی کے تعلق میں ہے۔اگر نبیوں پر تعلق باندھیں گے تو پھر جزوی فضیلت کا مضمون یہ ہوگا کہ انبیاء کی جو اصل شان ہے اس شان میں تو کسی کو محمد رسول اللہ ﷺ پر فضیلت نہیں ہوسکتی مگر اس کی صلى الله ثانوی پہلوؤں میں، جو نسبتا ادنی پہلو ہیں، ان میں ہو سکتا ہے کسی اور رسول کو محمد رسول اللہ ﷺ پر وہ جزوی فضیلت ہو۔مگر قیامت کے دن اس واقعہ کو جزوی فضیلت قرار دینا میری سمجھ سے بالا ہے۔وہ