خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 169 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 169

خطبات طاہر جلد 14 169 خطبہ جمعہ 10 / مارچ 1995ء پیش کی ہی نہیں جاسکتی۔پس یہ دیکھنا ہوگا کہ ازل ہے کہ نہیں اور جو چیز ازلی ہے وہ بالا رادہ تھی کہ نہیں۔یہ ثابت ہو جائے کہ ازل کے بغیر ہمارا گزارہ ہی نہیں۔ناممکن ہے کہ ازل کے بغیر بھی وجود ہو پھر یہ قدم اٹھتا ہے کہ ازل بالا رادہ تھی یا بغیر ارادہ کے تھی۔اگر ازل بغیر ارادہ کے ہو تو صرف مادہ رہ جاتا ہے جس میں سوچ نہیں کوئی ترتیب نہیں جو اپنی ذات میں بھی اندرونی تبدیلیوں اور معقول اندرونی تبدیلیوں کی طاقت نہیں رکھتی اور دوسری ذات میں منظم تبدیلیوں کی اہلیت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔تو جب ہمیں واقعاتی دنیا میں ایسے مادے کی تبدیل ہوتی ہوئی حالتیں دکھائی دے رہی ہیں جو منظم ہیں، مربوط ہیں، ایک معین رستے کی طرف چل رہی ہیں اور حیرت انگیزان میں لطافتیں ہیں تو مادے کو بے سوچ کا ازلی مادہ قرار دیا ہی نہیں جاسکتا۔پس قرآن کریم نے اس مضمون کو یوں اٹھایا ہے کہ کیا تم اپنے خالق ہو؟ کیا تم اس چیز کے خالق ہو ؟ ہر وہ چیز بیان فرمائی جس کے لئے ایک خالق ہونا ضروری ہے۔تو بظاہر دنیا میں جو تبدیلیاں ہمیں دکھائی دیتی ہیں وہ یہ بتاتی ہیں کہ اگر ازل ہے تو سوچ والی ازل ہے اور سوچ والی ازل میں تبدیلی نہیں ہوسکتی کیونکہ اگر تبدیلی ہے تو ازل نہیں ہے۔تو مادہ وہ چیز نہیں ہے جو سوچ والی ازل ہو۔اس مضمون کو آپ میں سے بعض سمجھیں یا نہ سمجھیں غور کریں گے تو سمجھ آجائے گی بات کی۔دو ہی امکانات ہیں۔میں پھر سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔یہ مائیکروفون میرے سامنے پڑا ہے یا یہ ہمیشہ سے ہے یا یہ پیدا ہوا ہے۔اگر اس میں تبدیلیاں ہو رہی ہیں تو ہمیشہ سے ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ آغاز سے بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچا ہے اس کا کوئی آغاز ضرور تھا پھر۔اور اگر اس میں شعور نہیں ہے اور اپنے آپ کو پیدا نہیں کر سکتا تو پھر وہ شعور جو ہر مادے کی اندرونی تبدیلیوں سے پہلے ہونا چاہئے اس کا اس میں فقدان ہے تو کسی پہلو سے بھی ازلی نہیں ہوسکتا۔از لی چیز صرف وہی ہوسکتی ہے جس میں سوچ ہو کیونکہ جو چیزیں دنیا میں دکھائی دیتی ہیں ان پر سوچ کی چھاپ ہے۔ہر چیز پرسوچ کی چھاپ ہے اور جو تبدیل نہ ہو کیونکہ اگر وہ تبدیل ہوگا تو اس کا ایک کنارہ کہیں کسی نہ کسی وقت ہمارے ہاتھ آجائے گا اس سے آگے پھر وہ نہیں ہوگا اور اگر اس سے آگے نہیں ہوگا تو عدم سے کامل سوچ پیدا نہیں ہو سکتی۔تو جس منطقی نکتے سے آپ چاہیں اس مضمون کی پیروی کریں آپ کو خدا کی ذات میں زمانہ دکھائی نہیں دے گا سوائے اس زمانے کے جو ذات باری تعالیٰ میں تبدیلی نہیں چاہتا