خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 168 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 168

خطبات طاہر جلد 14 168 خطبہ جمعہ 10 / مارچ 1995ء ذات کی تبدیلی کو چاہتا ہے بلکہ پوری کائنات کو بعض دفعہ تبدیل کر دیتا ہے۔جہاں جہاں اثر انداز ہو وہاں وہاں تبدیلی واقع ہوتی ہے۔لیکن توانائی کا جہاں تک تعلق ہے یہ ارادہ اتنی توانائی بھی نہیں چاہتا جتنی انسانی ارادہ چاہتا ہے۔پس ارادے کا تعلق روح سے ہے اور روح اس قسم کی توانائیاں نہیں چاہتی جیسی ہم روز مرہ کی دنیا میں توانائی دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں۔یہ مضمون جب میں رویا کے بعد اٹھا اور یہ سوچتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا تو اچانک میرا ذہن اس طرف گیا کہ جب روح کا سوال قرآن نے اٹھایا تو یہی جواب دیا ہے وَ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي (بنی اسرائیل: 86) روح کا تعلق امر سے ہے اور روح ہی ہے جو امر کی استطاعت رکھتی ہے کیونکہ خالق نے امر سے اس کو پیدا کیا اور امر کی کچھ طاقت اس کو بخشی ہے پس روح کا فیصلہ کم سے کم توانائی چاہتا ہے اور زیادہ سے زیادہ توانائی کو حرکت میں لے آتا ہے۔ہماری ہر حرکت اس فیصلے کے تابع ہے اور صرف ہماری حرکات ہی نہیں بلکہ ہمارے گردو پیش کی حرکات بھی بسا اوقات اتنا متاثر ہوتی ہیں کہ تبدیلیوں کا ایک سلسلہ جاری ہو جاتا ہے جو ایک وقت ہی نہیں بلکہ ایک زمانے پر اثر انداز ہوتا ہے اور اس زمانے کے اثر پھر اگلے زمانوں پر اثر انداز ہو جاتے ہیں۔اب جنگ عظیم اول ہو یا ثانی ہو یا کوئی اور ہوانہوں نے جواثرات شروع کر دیئے وہ ایک Chain Reaction کے طور پر آگے جاری ہو گئے اور ارادے میں وہ طاقت نہیں تھی ، بذات خود نہ وہ اس توانائی کو چا ہتا تھا لیکن اس نے توانائی پیدا کر دی۔اس پر دوسرا پہلو جو سوچ کے لائق تھا جس کی طرف میری توجہ مبذول ہوئی یا اللہ تعالیٰ نے نصرت فرمائی۔وہ یہ تھا کہ خدا تعالیٰ ارادے سے مادہ کیسے پیدا کر سکتا ہے، کیوں کرتا ہے؟ چونکہ انسانی ارادے کے رستے سے لوگوں نے خدا تعالیٰ کو سمجھنے کی کوشش کی اس لئے یہاں پہنچ کر سب فلسفی ٹھوکر کھا جاتے رہے۔اگر سب نے نہیں کھائی جیسا کہ ارسطو نے نہیں کھائی تو بہت سے دوسروں نے کھالی اور ہند و فلسفہ اسی وجہ سے ایک غلط رستے پر چل پڑا اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے جو براہین احمدیہ میں ہندوؤں سے بخشیں کی ہیں ، خصوصاً آریوں سے ، وہ اسی مضمون پر ہیں کہ خدا ارادے سے مخلوق کو پیدا کر سکتا ہے کہ نہیں کیونکہ ارادہ غیر مادی ہے اور مخلوق مادی ہے۔اس کا انسان کچھ نہ کچھ مظہر ضرور ہوتا ہے، اگر چہ سو فیصد نہیں اور چونکہ خدا کی مثال کوئی اور ہے ہی نہیں اس لئے مکمل مثال