خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 170 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 170

خطبات طاہر جلد 14 170 خطبہ جمعہ 10 / مارچ 1995ء بلکہ وہ دنیا کو تبدیل کرنے والا ارادہ ہے۔اس سلسلے میں اس بات کو سمجھانے کے بعد اب میں واپس اس حصے کی طرف آتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فیصلے سے مادہ کیسے وجود میں آتا ہے۔اصل میں پوری مثال تو نہیں مگر معمولی ادنیٰ مثالوں پر آپ غور کریں تو آپ کو محسوس ہوگا کہ کچھ نہ کچھ چھاپ آپ کے اوپر بھی اس بات کی ہے۔جب آپ خواہیں دیکھتے ہیں تو یہ آپ کی سوچ ہے جو بے شمار تصورات کو جنم دیتی ہے۔لیکن سوچ چونکہ بہت ہی عاجز اور کمزور ہے وہ ان کو ظاہری وجود نہیں بخش سکتی لیکن جہاں تک آپ کے تعلق کا سوال ہے آپ ایک اور عالم میں چلے جاتے ہیں جو آپ کی سوچوں کا پیدا کیا ہوا ہے اور آپ کا اپنا وجود بھی اس عالم کا ایک جزو بن جاتا ہے گویا کہ ظاہری وجودرہا ہی نہیں۔اگر سوچ میں طاقت ہو تو جو تصویریں ہیں وہ تصور میں نہیں رہیں گی بلکہ حقیقت میں تبدیل ہوسکتی ہیں اور یہ جوسوچ کا دوسرا حصہ ہے اس کا بھی معمولی سا مزہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا فرما دیا تا کہ وہ اپنے رب کے انکار کا اہل نہ رہے۔اس کی تخلیقی اور ابتدائی پیدا کرنے کی طاقتوں کا انکار نہ کر سکے۔فرعون کی مثال میں جہاں وہ جادو گر دکھائے ہیں، ان کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان کی سوچ میں ایک طاقت تھی اور ایسی طاقت تھی کہ رسیوں کو لوگوں نے سانپ بنتے ہوئے دیکھا، گواہ بن گئے کہ یہ سانپ بن گئی ہیں لیکن جس خالق نے یہ طاقت بخشی تھی اس کی طاقت غالب تھی اس لئے موسی کی سوچ کی طاقت نہیں تھی بلکہ اللہ کی سوچ کی طاقت تھی جس نے ان رسیوں کو از سرنو رسیاں بنا دیا۔جو سانپ تھے وہ رسیاں بن گئے کیونکہ جوسوٹے کا اثر دھا نظر آرہا تھا ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَا يَأْفِكُونَ (الاعراف: 118) اس نے اس کو کھایا ہے جو جھوٹا بنایا ہوا تھا، انہوں نے رسیوں کو کھانے کا ذکر نہیں ملتا۔تو جھوٹ ان کی سوچ نے بنا دیا تھا اس جھوٹ کو خدا کا غالب تصور جو ہے وہ ہڑپ کر گیا اور وہ موسیٰ کے سوٹے کی صورت میں ظاہر ہوا تھا۔تو ایک مثال ہمیں نظر آتی ہے کہ انسان کی سوچ بغیر کسی مادی ذریعے کے دوسرے پر اثر انداز ہو۔اس ضمن میں جو جدید سائنٹیفک تحقیقات ہیں ان سے بھی پتا چلتا ہے پیرا سائکالوجی کا مضمون اب با قاعدہ سائنس بن گیا ہے۔بہت سی یو نیورسٹیوں میں اس پر غور وفکر ہو رہا ہے اور تجارب سے یہ بات تو قطعاً ثابت ہو گئی ہے کہ انسان کی سوچ اس رنگ میں ایک اور انسان پر اثر انداز ہوسکتی ہے کہ کوئی بھی معلوم سائنسی ذریعہ بیچ میں واسطے کے طور پر موجود نہ ہو۔کوئی ریڈیائی طاقت، کوئی برقی