خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 167
خطبات طاہر جلد 14 167 خطبہ جمعہ 10 / مارچ 1995ء ہوتا ہے کہ میں یہ کروں یا یہ نہ کروں اور آپ مختار ہو جاتے ہیں بعض صورتوں میں کہ اچھا یہ کرتا ہوں یہ نہیں کرتا۔اس ارادے کے اندر کوئی توانائی ضائع نہیں ہوتی لیکن ارادے پر جب عمل ہوتا ہے تو پھر توانائی کا دور شروع ہوتا ہے۔انسان کی مثال خدا پر پوری طرح صادق اس لئے نہیں آسکتی کہ انسان خود اپنے کارخانے پر اپنے ارادے کا اثر ظاہر کرتا ہے۔پس انسان کے ہر ارادے سے اس کی ذات کی تبدیلی لا زم ہے۔جب بھی کوئی ایک انسان ارادہ کرتا ہے یا اس کی ذات میں کوئی تبدیلی ضرور ہوگی پس اب میں نے ارادہ کیا کہ میں مکھی کو ماروں تو میرا ہاتھ اٹھے گا اور نشانے پر گرے گا اگر نشانہ اچھا ہوا اور مکھی زیادہ تیز نہ ہو تو اس کو مارنے میں کامیاب ہو جائے گا۔مگر ایک حرکت لازم ہے۔اور جب تک حرکت نہ ہوا رادہ عمل میں نہیں آتا۔وہ محض ایک سوچ، ایک امکان ہے، وجود کا ایک امکان۔اور اس پہلو سے آپ کا ارادہ دوسروں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔اب دیکھیں ارادے کی طاقت کتنی ہے اگر اسے فساد پر استعمال کیا جائے تو جنگ عظیم ایک ہٹلر کا ارادہ تھا۔کتنی بڑی قیامتیں ٹوٹی ہیں اس کے نتیجہ میں۔کروڑہا کروڑ ٹن بم گرائے گئے ہیں دنیا کو خاکستر بنانے کے لئے کتنی حرکت ہوئی ہے، کتنے کارخانے وجود میں آئے۔لکھوکھہا انسان بلکہ کروڑوں انسانوں نے جانیں دیں۔کچھ آگ میں جلائے گئے ،کسی نے ویسے مصیبتوں میں دم توڑے۔تو ارادے کو کیسی طاقت ہے لیکن ارادہ خود وہ توانائی نہیں بخش رہا تھا ان چیزوں کو بلکہ توانائی کا مضمون ارادے سے باہر تھا۔لیکن انسان میں اور خدا میں ایک فرق بھی ہے۔یعنی فرق تو بہت ہیں اس ارادے کے تعلق میں ایک اور فرق بھی جس کو فلسفی جب نہیں سمجھ سکے تو انہوں نے ٹھوکریں کھائیں۔وہ یہ ہے کہ خدا تعالی کا ارادہ توانائی کے نتیجے میں پیدا نہیں ہوتا بلکہ توانائی پیدا کرتا ہے۔ہر توانائی خدا کے ارادے سے پیدا ہوتی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کا یہ تعارف فرمایا ہے کہ جب بھی میں چاہتا ہوں کچھ کروں تو میں حسن کہتا ہوں فیکون “ اور کن “ ارادہ ہے جو ایک فیصلہ کو ظاہر کرنے کا فیصلہ کر لیتا ہے تو فیصلے کو ظاہر کرنے کا فیصلہ بظاہر دو زائد لفظ ہیں مگر خدا تعالیٰ کے تعلق میں ضروری ہے بیان کرنا۔اس کا فیصلہ موجود ہے کیونکہ عالم الغیب ہے۔وہ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ اس فیصلے پر عمل درآمد اب میں نے کروانا ہے۔اس پہلو سے زمانہ پایا جاتا ہے مگر یہ زمانہ اس کی ذات کو تبدیل نہیں کرتا نہ کسی