خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 166 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 166

خطبات طاہر جلد 14 166 خطبہ جمعہ 10 / مارچ 1995ء الله ہماری راہنمائی کریں گے اسماء الذات کی طرف۔اور قرآن کریم میں وہ کامل طور پر اس درجہ کمال تک موجود ہیں جس درجہ کمال تک انسان ان کو سمجھنے کی صلاحیتیں لے کے پیدا ہوا ہے، اس سے آگے نہیں۔اور آنحضرت ﷺ اس پہلو سے وہ آدم ہیں جن کو اسماء كلها تمام کے تمام سکھائے گئے یعنی انسانی سوچ کی حد تک اسماء جتنے بھی انسان سمجھ سکتا تھا اور انسان جس کا ئنات میں پیدا ہوا ہے اس کی ضرورتوں کے تعلق میں انسان جس حد تک بھی صفات باری تعالیٰ کا علم حاصل کر سکتا تھا وہ تمام صفات حضرت محمد مصطفی ﷺ پر نازل فرمائے گئے۔اب یہ جو نزول ہے یہ بھی ایک شان ہے اور اس سے پہلے نازل نہیں فرمائے گئے تو یہ زمانہ پایا گیا لیکن اس بات کے مخالف نہیں ہے جو میں بیان کر چکا ہوں کیونکہ یہ زمانہ تبدیلی ذات کو نہیں چاہتا بلکہ ایک دائی صفت کی ضرورت کے مطابق وقتاً فوقتاً جلوہ گری کو چاہتا ہے۔پھول میں بھی بعض اوقات مختلف صفات جلوہ گر ہوتی ہیں مگر اس میں زمانہ اس لئے پایا جاتا ہے کہ ہر صفت جو اس کی ظاہر ہوتی ہے اس کے پیچھے اس کی ذات میں کوئی تبدیلی واقع ہوتی ہے۔جب تک وہ تبدیلی واقع نہ ہو پھول کی کوئی صفت ظاہر نہیں ہوسکتی۔اگر رنگ بدلا ہے تو اندر ذات بدلی ہے تب رنگ بدلا ہے۔اگر خوشبو بدلی ہے تو ذات بدلی ہے تو رنگ بدلا ہے۔اگر پھل کھٹا ہوا ہے یا میٹھا ہوا ہے تو ذات کی تبدیلی سے ایسا ہوا ہے۔مگر خدا تعالیٰ کی ذات میں یہ تبدیلی ممکن نہیں۔اب وہ بحث جس کا میں نے ذکر کیا تھا Prime Mover والی بحث اس میں ارسطو تو یہ بات کہہ کر مطمئن ہو جاتا ہے کہ ہے تو اول ہی مگر چونکہ عقل ہے اس لئے اس میں ذات کی تبدیلی کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ مادہ نہیں ہے۔یہ حق کی اور حکمت کی قریب ترین بات ہے جس تک وہ تمام کائنات، دنیا میں اب تک جتنے فلسفی پیدا ہوئے ہیں ارسطو پہنچا ہے۔آج کل کے ماڈرن فلسفی بھی اس بات سے کوسوں پیچھے ہیں ابھی تک۔اس لئے اس کی عظمت کا اقرار کرنا پڑتا ہے۔واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو زمانے سے پاک ہے زمانہ پیدا کرنے کے تعلق میں تخلیق کا ذکر فر مایا اس کو ارادے سے باندھا ہے اور ارادہ کسی ذات کی تبدیلی کو نہیں چاہتا۔آپ اپنے ارادوں پر غور کر کے دیکھ لیں آپ مختلف وقتوں میں ایک ارادہ کر سکتے ہیں ، ایک فیصلہ کر سکتے ہیں کبھی کر لیتے ہیں کبھی نہیں کرتے۔ارادے میں آپ زمانے کے پابند نہیں ہیں۔ایک امکان آپ کے سامنے روشن