خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 159 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 159

خطبات طاہر جلد 14 میں نے بیان کئے تھے کچھ ابھی باقی تھے۔159 خطبہ جمعہ 10 / مارچ 1995ء ایک میں نے ذکر کیا تھا کہ ہمیں قرآن کریم سے پتا چلتا ہے كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِ بنِ (الرحمان : 30 تا 31) - ہر دن ہر وقت وہ ایک نئی شان میں ہے یا ایک شان کے ساتھ ظاہر ہوتا رہتا ہے۔پس اے بڑے لوگو اور چھوٹے لوگو! تم خدا کی کن کن نعمتوں کی تکذیب کرو گے۔اس ضمن میں ایک حوالہ میں نے انسانی زاویہ نگاہ سے دیا تھا اور اس کے بعد پھر میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک تائیدی حوالہ اس مسلک کی تائید میں پیش کیا جو میں سمجھا تھا اور پھر میں نے وعدہ کیا تھا کہ باقی مضمون حضرت مسیح موعود کی تحریرات کی صورت میں آپ کے سامنے پیش کروں گا۔لیکن اس میں کچھ اور باتیں بھی کہنے والی تھیں جو رہ گئی تھیں جن کے ذکر کے بغیر وہ مضمون مکمل نہیں ہوسکتا۔سب سے اہم بات جو قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ زمانہ کیا چیز ہے ، کن معنوں میں خدا میں نہیں پایا جاتا۔جو صرفی اور نحوی تعریف ہے وہ انسانوں کے معاملے میں بھی ناقص ہے اور خدا پر اطلاق کی صورت میں بھی ناقص ہے۔پس اس کا ایک حصہ جو اطلاق پاتا ہے اس حد تک ہم اطلاق کر سکتے ہیں، اس سے آگے نہیں بڑھ سکتے اور زمانہ ہے کیا ؟ اس کی تعریف وہاں موجود نہیں اس لئے اس کی ایک تعریف ہمیں خود مجھنی پڑے گی۔جو تعریف رؤیا کے دوران ہی اور کچھ اس کے بعد مجھ پر روشن فرمائی گئی وہ یہ تھی کہ وہ چیز جس کا آغاز نہ ہو اور انجام نہ ہو اور جس کی ذات میں تبدیلی لازم نہ ہو وہ زمانے سے پاک ہے اور یہ صرفی تعریف نہیں ہے نہ نحوی تعریف ہے وہ اور معنوں میں تعریف ہے۔مگر اس تعریف نے ایک طرف اشارہ کر دیا اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس اشارے کو مزید آگے بڑھا کر معامله روشن فرما دیا۔اس لئے بعض ایسی چیزیں ہیں جن میں زمانے کا ایک تاثر ملتا ہے لیکن یہ باتیں اس میں نہیں ہیں۔پس ہر وہ زمانے کا تصور جس میں خدا تعالیٰ کی ذات کی تبدیلی لازم آئے اور ہر وہ زمانے کا تصور جس میں خدا تعالیٰ کا آغاز اور انجام کا تصور نہ آئے ، وہ زمانہ خدا کی طرف منسوب کرنا جائز ہے کیونکہ قرآن کریم نے اسے منسوب فرمایا ہے۔بسا اوقات اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرماتا ہے کہ جب وہ ارادہ کرتا ہے کسی چیز کو پیدا کرنے کا تو ”کن“ کہتا ہے اور يَكُونُ شروع ہو جاتا ہے۔تو جب کرتا ہے وہ کسی وقت سے تعلق رکھنے والی چیز ہے جب ”کن“ کہتا ہے تو اس سے پہلے وہ