خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 158 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 158

خطبات طاہر جلد 14 158 خطبہ جمعہ 10 / مارچ 1995ء ابھی پڑھی ہیں۔اس مضمون سے ان آیات کا گہرا تعلق ہے لیکن خصوصیت سے اس غرض سے میں نے ان آیات کی تلاوت کی ہے کہ جب بھی ایک موضوع چھیڑا جاتا ہے خطبات وغیرہ میں تو احمدیوں میں جو ذ کی ہیں اور زیادہ فراست رکھنے والے یا علمی ذوق شوق رکھتے ہیں وہ بڑی تیزی کرتے ہیں ان باتوں پر مزید غور کرنے کی اور جلدی میں بسا اوقات حدوں سے بھی آگے نکل جاتے ہیں۔یہ وہ مضمون ہے جس میں سخت احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ قطعی طور پر قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ تمہاری بصیرت ، تمہاری سوچیں، تمہارے فکر خواہ کتنے ہی روشن کیوں نہ ہوں نا ممکن ہے کہ تم خدا کا ادراک کر سکو، ہاں اسی حد تک جس حد تک خود خدا تمہاری بصیرت تک پہنچے وہ خود تم پر معاملات کو روشن فرمانا چا ہے۔پس اسی حد تک تم اس کو پہچان سکو گے جس حد تک وہ خود تم پر جلوہ گر ہو۔اور اس تعلق میں اگلی آیت یہ ہے کہ قَدْ جَاءَ كُمُ بَصَابِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ ۚ فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِه پس وہ بصائر جو خدا کا تم سے تعارف کرواسکتی ہیں وہ ظاہر کر دی گئی ہیں یعنی تمہاری ہمتوں اور عقل کی حدود کی حد تک، پس جو بھی ان سے نصیحت حاصل کرے،ان پر غور کرے، ان سے استفادہ کرے تو اس کے اپنے نفس کے فائدے ہی کے لئے ہے اور جو کوئی ان سے آنکھیں بند کرے گا تو اس کا ضرور اس کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔وہ بصائر قرآن کریم میں ہیں، وہ بصائر اس قرآن کے فہم میں ہیں جو آنحضور ﷺ کو عطا فرمایا گیا۔پس خدا کے تعلق میں اس سے آگے زبان کھولنے کی کسی کو اجازت نہیں۔اگر وہ کھولے گا تو اپنی ہلاکت کا موجب بنے گا۔اسی لئے آنحضرت نے اس بارے میں بہت انذار فرمایا ہے کہ تم ایسی بات نہ کیا کرو خدا تعالیٰ کی ذات کو سمجھنے کے متعلق جس کے نتیجے میں تم ہلاک بھی ہو سکتے ہو۔پس اپنی فکروں کو دوسرے دائروں میں رکھیں مگر اس دائرے کو اس حد تک محدود رکھیں کہ قطعی طور پر قرآن سے جو استنباط کر سکتے ہیں جس کا قرآن بھی مؤید ثابت ہو، اور جس کی حدیث بھی مؤید ثابت ہو اتنی ہی باتیں کریں، اس سے بڑھ کر اپنے خیالات کو اجازت نہ دیں کہ وہ اس مضمون میں قدم رکھیں۔اس نصیحت کے ساتھ ، اسی آیت کی روشنی میں میں اس مضمون کو کچھ آگے بڑھانا چاہتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے ایک رؤیا کے ذریعے مجھ پر ظاہر فرمایا اور پھر آگے پھول کی طرح وہ کھلتا چلا گیا اور خود بخود آگے بڑھتا رہا گو یار و یا ہی کے عالم میں ہوں۔کچھ حصے