خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 142
خطبات طاہر جلد 14 142 خطبہ جمعہ 24 فروری 1995ء فائق ہے کہ لیلۃ القدر کے زمانے میں، جو آج کل کا دور ہے خصوصیت سے لیلۃ القدر کی باتیں کی جائیں۔اس ضمن میں جو آیات ہیں وہ میں آپ کے سامنے تلاوت کرتا ہوں۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إِنَّا أَنْزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِةُ وَمَا أَدْرِيكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ تَنَزَّلُ الْمَلَيْكَةُ وَالرُّوْحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ ۚ مِنْ كُلِّ أَمْرِكْ سَلَّم هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ ) (القدر : 1 تا 6) یقیناً ہم نے اسے لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے اور تجھے کیا بات سمجھائے ، کیسے سمجھایا جائے کہ لیلۃ القدر کیا چیز ہے۔یعنی بہت اہم ، بہت وسیع اور بہت ہی گہرا مضمون ہے جس کے لئے امر واقعہ یہ ہے کہ آج تک کے مسلمان مفکرین کی سوچ بھی اس بیان پر احاطہ نہیں کرسکی۔پس قرآن کریم کا یہ کہنا کہ وَمَا أَدْرِيكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ یہ کوئی یونہی دعویٰ نہیں بلکہ بہت ہی گہری حقیقت پر روشنی ڈال رہا ہے کہ لیلتہ القدر کے مضمون کو تم معمولی نہ سمجھو۔یہ نہ سمجھو کہ ایک رات آئی آپ نے چند گھنٹے جاگ کر گزاری ، ساری عمر کی کمائیاں کر گئے اور بات ختم ہوئی۔یہ بہت گہرا مضمون ہے اس پر غور کی ضرورت ہے اور غور کرتے چلے جانے کی ضرورت ہے۔تَنَزَّلُ الْمَلبِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمُ اس رات میں ملائکہ اور روح الروح یعنی حضرت جبرائیل کے لئے الروح کا لفظ استعمال ہوتا ہے ان سب کا نزول ہوتا ہے بِاِذْنِ رَبِّهِمْ اللہ کے حکم کے ساتھ مِنْ كُلِّ أمرٍ تمام امور پرمشتمل، جو قابل ذکر یا انسان کی ضرورت کے امور ہیں أَهْرِ امور ان امور پر مشتمل وہ کچھ چیزیں لے کر آتے ہیں کہ اپنے اللہ کے اذن کو تمام امور کے تعلق میں بیان کرتے ہیں۔سلم سلامتی ہی سلامتی ہے هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ یہ سلسلہ جاری رہتا ہے یہاں تک کہ صبح ہو جائے۔یہ لفظی سرسری ایک ترجمہ ہے۔اس میں مفسرین نے بہت بحثیں اٹھائی ہیں مختلف مضامین کو پیش نظر رکھ کر کبھی احادیث کی روشنی میں کبھی قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں کبھی اپنے تجارب کی روشنی میں کئی باتیں بیان فرمائی ہیں۔اچھے اچھے مضامین ہیں اور یہ بات بھی بہت سے مفسرین پہلے لکھ چکے ہیں کہ اِنَّا اَنْزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ سے مراد قرآن کریم ہے کیونکہ