خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 141 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 141

خطبات طاہر جلد 14 141 خطبہ جمعہ 24 فروری 1995ء کے علاوہ بھی ایک مضمون ہے وہ علوم جو خدا آسمان سے دل پر اتارتا ہے وہ آپ لوگوں سے سیکھے ہوئے نہیں ہیں ، وہ اللہ دل پر نازل فرماتا ہے اور اس کی بے شمار مثالیں میرے ذہن میں ہیں کہ ایک خطبے کے لئے کھڑا ہوں جبکہبا لکل خالی الذہن تھا اور اللہ تعالیٰ نے مضمون یوں شروع کر دیا جیسے بارش ہو رہی ہو یا بعض جگہ جا کے کسی مضمون پر اٹکا ہوں تو اچانک جیسے چابی سے کوئی دروازہ کھول دیتا ہے اس طرح اللہ تعالیٰ نے وہ مضامین نازل فرمائے۔بسا اوقات رؤیا کے ذریعے خدا تعالیٰ بڑے بڑے دلچسپ اور لطیف مضامین کھولتا ہے جن کو پھر میں آگے چلا دیتا ہوں۔تو یہ جو میں نے ذکر کیا تھا اس کی دیکھیں کیسی عجیب غیبی تائید ہوئی کہ دو دن بعد اتوار اور پیر کی درمیانی رات کو میں نے تہجد کے لئے اٹھنے سے پہلے صرف بمشکل ایک منٹ کی رؤیا دیکھی ہے اور وہ رویا علوم کا ایک دروازہ کھولنے والی رویا تھی ، آنا فانا بہت سے علوم روشن کئے گئے جو پہلے اس سے جہاں تک میں نے جائزہ لیا ہے بیان نہیں ہوئے اور اس تعلق میں بیان نہیں ہوئے جس تعلق میں اللہ نے مجھے سمجھائے اور رویا ایسی ہے جو عام حالات میں میرے تصور میں بھی نہیں آسکتی کہ اس ریا کا کوئی دینی علوم سے اس طرح تعلق ہوگا یا میں ایسی بات سوچتا ہوں جو خواب میں آگئی۔بڑی واضح کھلے پیغام پر مشتمل Crisp جس کو کہتے ہیں نا بڑی چٹکتی ہوئی رویا تھی۔تو اول سے آخر تک مضامین سے بھری ہوئی تھی اور جب ختم ہوئی ہے تو ایک عجیب لطف پیچھے چھوڑ گئی ہے جو ایک نشے کا عالم تھا اور اسی لطف کے دوران پھر وہ مضامین کھلتے رہے رو یا ختم ہونے کے باوجود وہ مضامین جاری رہے۔جب میں نے سحری کے وقت اپنے بچوں سے ذکر کیا تو سب نے کہا کہ ہمیں بتا ئیں ابھی بتائیں، ابھی بتائیں۔میں نے کہا یہ تمہاری نہیں ، ساری جماعت کی امانت ہے۔میں نے بالکل نہیں بتانا مگر میری خواہش ہے کہ آخری جمعے میں بیان کروں لیکن اب جب میں نے وقت دیکھا ہے تو تمہیدی باتوں میں آدھے کے قریب وقت گزر گیا ہے اور یہ مضمون ایسا نہیں کہ اسے ذرا سا چھیڑا جائے اور پھر جلدی میں اس کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے یا سمیٹنے کی کوشش کی جائے۔تو انشاء اللہ یہ آئندہ عید کے بعد کسی خطبے میں خدا کی توفیق سے بیان کروں گا۔بہت دلچسپ رویا ہے مگر ایک منٹ کے اندر اندر دروازے کھلے ہیں اور وہ مضامین نظر آنے شروع ہوئے جو دیسے کبھی تصور میں نہیں تھے۔دوسری بات جو میں آج بیان کرنی چاہتا ہوں وہ لیلۃ القدر سے تعلق رکھتی ہے۔پس یہ حق