خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 136
خطبات طاہر جلد 14 136 خطبہ جمعہ 24 فروری 1995ء جائیں۔ہمیشہ کے لئے مساجد کے ہور ہیں۔یہ پیغام ہے جو جمعۃ الوداع ہر مسلمان کو دیتا ہے اور مساجد جو بھرتی ہیں پھر بھری رہنی چاہئیں۔عید آنے والی ہے اس دن خصوصیت سے میں تمام جماعتوں کو پھر متنبہ کرتا ہوں کہ عید کے دن کی صبح کی حاضری دراصل وہ میزان ہے جس سے آپ کا ایمان تو لا جائے گا یا ایمان نہیں تو کم سے کم وہ جو کچھ آپ نے رمضان میں کمایا ہے اس ترازو میں تولا جائے گا یعنی عید کے دن صبح کی نماز میں۔اگر ایک مہینہ بھر راتوں کو اٹھ کر تہجد پڑھے اور عید جو اس مہینے کی خوشیوں کا دن ہے، اس مہینے کی برکتیں منانے کا دن ہے، اس دن وہ ساری برکتیں ہاتھ سے کھو بیٹھیں اور اسے آرام سے سونے کا اور خدا کی یاد سے غافل ہونے کا دن بنالیں تو بہت ہی بے ہودہ اور ظالمانہ سودا ہوگا۔پس آنے والی عید میں خصوصیت سے اپنی نمازوں کی طرف توجہ کریں اور عید کی صبح مسجد کو نمازیوں سے اسی طرح بھرا دیکھے جس طرح جمعۃ الوداع نے بھرا ہوا دیکھا ہے۔اس ضمن میں میں یہ خوشخبری بھی جماعت کو دیتا ہوں کہ تمام دنیا سے جو اطلاعیں مل رہیں ہیں دن بدن جماعت احمدیہ کی مساجد بھرتی چلی جارہی ہیں، چھوٹی ہوتی چلی جارہی ہیں۔یہ مسجد تو ایک لمبے عرصے سے چھوٹی ہوئی ہوئی ہے۔اس لئے ہدایت دینی پڑتی ہے کہ کم سے کم لوگ یہاں آئیں جو حلقے کے لوگ ہیں وہ آجائیں اور باقی شاذ کے طور پر آجایا کریں برکت کے لئے ، ورنہ اپنی اپنی مساجد میں جمعہ پڑھا کریں اور خطبہ کا جہاں تک تعلق ہے وہ ٹیلی ویژن سے استفادہ کیا ہی جاسکتا ہے۔مگر پھر بھی بہت چھوٹی ہو چکی ہے اور ضرورت محسوس ہو رہی ہے کہ اس مسجد کو بڑھایا جائے اور دوسری مساجد کو بھی بڑھایا جائے۔ربوہ کا یہ حال ہے کہ اس رمضان سے پہلے ہی مساجد چھوٹی ہوگئی تھیں۔اہل ربوہ کا عبادتوں کی طرف اتنا غیر معمولی رجحان ہے کہ اس سے پہلے اس کی نظیر دکھائی نہیں دیتی۔جمعہ کے دنوں میں، جمعے کے اوقات میں اور عبادتوں کے وقت میں بازار سنسان ہو جاتے ہیں، خدا کے گھر بھر جاتے ہیں اور آج کا جمعہ جو انہوں نے پڑھا ہے ، پڑھ چکے ہیں اس میں تو عجیب عالم ہوگا۔میں صبح تصور کی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا اور میرا دل اللہ کی حمد سے بھر گیا وہاں سے آتے وقت جو لوگ یہ کہتے تھے کہ کس حال میں لوگوں کو چھوڑ کے جار ہے ہو ان کا کون متوتی ہوگا، کون حفاظت کرے گا ؟ میرے -