خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 137 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 137

خطبات طاہر جلد 14 137 خطبہ جمعہ 24 فروری 1995ء رب نے وہ سب غم دور کر دیئے۔ایسی خوشیاں دکھا ئیں کہ ان کی مثال دنیا میں دکھائی نہیں دیتی۔اس دوری کے باوجود اہل ربوہ کو اتنا قریب کر دیا کیونکہ جو خدا کے قریب ہیں وہی میرے قریب ہیں اور خدا کے قرب نے مجھے وہ نعمتیں وصال کی بخشی ہیں جو وہاں رہتے ہوئے کبھی میسر نہ آئی تھیں۔مجھے یاد ہے جب میں وہاں ہوتا تھا تو کئی دفعہ اہل ربوہ سے شکوے کرتا تھا کہ مساجدا بھی پوری طرح بھری نہیں ہیں اور مساجد اتنی چھوٹی ہیں اگر سارا ربوہ عبادت کرے تو مساجد انہیں سمیٹ ہی نہیں سکتیں۔پس الحمد للہ کہ یہ مبارک جمعہ ہے اس نے تو ربوہ کی مساجد کا عجیب عالم دیکھا ہوگا۔سب مساجد اتنی چھوٹی ہوگئی ہوں گی جیسے آپ اپنے بچپن کے کپڑے پہنے کی کوشش کریں۔گھٹنوں سے نیچے ٹانگیں نگی ہوں گی بدن کے اوپر کا حصہ کہیں وہ پھٹ رہے ہوں گے۔یہی کیفیت ربوہ کی مساجد کی پہلے سے ہورہی تھی ، آج تو عجیب عالم ہوا ہو گا۔پس اس تعلق میں ایک تو میں اہل ربوہ سے اپنی محبت کا اظہار کرتا ہوں۔یہ محبت انشاء اللہ کبھی نہیں مٹے گی یہاں تک کہ اللہ وہ صبح طلوع کرے جو لیلۃ القدر کی فجر ہوا کرتی ہے اور میں اس انتظامیہ کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ہمارے ایاز محمود خان صاحب ہیں جب سے وہ صدر عمومی بنے ہیں ماشاء اللہ بڑی محنت سے ، خلوص سے ایک ٹیم بنا کر نیک کاموں میں بہت حصہ لے رہے ہیں اور ان برکتوں کی جزا ان کو بھی ملے گی اور ان کے ساتھیوں کو بھی ،سب اہل ربوہ کو جنہوں نے خدا کے فضل سے نیکی کی جانب ایک انقلابی قدم اٹھا لیا ہے۔اللہ ان نیکیوں کو دوام بخشے۔اس تعلق میں میں یہ تحریک کرنا چاہتا ہوں کہ مساجد کی تعمیر اور مساجد کی وسعت کا ایک نیا دور شروع ہونا چاہئے۔توسیع مساجد ایک ایسا کام ہے جو جماعت کی توسیع سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔جب بھی ہم نے توسیع مساجد کی مہم چلائی ہے اور مشنوں کی ،وہ بھی مساجد ہی ہیں ہمارے لئے تو اللہ نے بے شمار فضل فرمائے ہیں اور جماعت کے دعوت الی اللہ کے کاموں میں بہت برکت پڑی ہے۔تو اس لئے یہ ایک عام تحریک ہے کل عالم کی جماعتوں کے لئے کہ مساجد کو تعمیر کرنے اور مساجد میں توسیع کرنے کی مہم شروع کریں۔جتنی توفیق ہے اس طرح کریں۔دنیا داری کے جھگڑوں میں پڑ کر ظاہری خوبصورتی اور قیمتی سامانوں کی فراہمی کا انتظار نہ کریں۔جیسی بھی مسجد ہے اسے اللہ کا ذکر برکت بخشتا ہے ، وہ مومن برکت بخشتے ہیں جو تقویٰ لے کر وہاں سجے سجائے پہنچتے ہیں۔مسجد کی سجاوٹ تو ان متقیوں سے ہے۔