خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 123 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 123

خطبات طاہر جلد 14 123 خطبہ جمعہ 17 فروری 1995ء والی ہیں ان میں ایک تو ناروے کی مثال میں نے دی ہے، ایک ہالینڈ ہے اللہ کے فضل کے ساتھ۔چھوٹی جماعت ہے لیکن امیر صاحب بھی ماشاء اللہ بہت ہی منکسر اور لبیک کہنے والے اور بھی بہت سے ایسے وہاں مخلصین ہیں ان کی رپورٹ میں آپ کو بتا تا ہوں اس سے اندازہ ہوگا کہ کس طرح مستعدی کے ساتھ وہ کوشش کرتے ہیں۔وہاں ایک غفلت یہ ہوگئی کچھ عرصے تک کہ ہمارے ایک بہت ہی مخلص ڈچ احمدی ہیں حمید صاحب وہ ترجمہ کر رہے تھے تو شاید یہ تاثر تھا کہ وہی سارے ترجمے کریں گے حالانکہ ناممکن تھا ان کے لئے ، سارے ترجمے وہ کہاں کر سکتے ہیں۔بعض ترجمے ہیں جن کے لئے ٹیموں کی ضرورت ہے۔تو اس لاعلمی میں کچھ وہاں سستی ہوئی لیکن جب میں نے توجہ دلائی تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بہت ہی عمدہ اس پر لبیک کہا گیا ہے اور فوری طور پر ٹیمیں بنا کر انہوں نے جو کام شروع کیا ہے اس کے فوری نتیجے بھی نکلنے شروع ہو گئے ہیں۔امیر صاحب جو ھبتہ النور صاحب ہیں ان کی فیکس آئی ہے اس کا اردو ترجمہ ہے۔وہ یہ ہے کہ 10 نومبر کو جب یہ شروع ہوا تھا تو انہوں نے کہا ہے کہ اس وقت 10 نومبر کو ہیگ میں ایک اجلاس بلایا گیا پچپیس نوجوان بچے اور بچیاں جو کہ اس کام کے سلسلہ میں منتخب کئے گئے تھے شامل ہوئے۔اس میں طے پایا کہ کون نگران ہوں گے، کتنے چاہئیں۔دس نگران مقرر کئے گئے جو طے شدہ ٹیموں کے ذمہ دار تھے ترجمے کے لئے اشیاء، ویڈیو اور آڈیو کیسٹ اور جتنی ضرورتیں تھیں وہ مبارک یا داللہ صاحب جو اس کے ذمہ دار ہیں انہوں نے حامی بھری کہ جو ضرورت ہے مجھ سے مانگیں میں دوں گا۔اب کیسے منظم طریق پر دیکھیں وہ کام کو آگے بڑھا رہے ہیں اور تمام نگرانوں کو ان کی ٹیمز کے ممبرز کے نام ، طریقہ کار سمجھایا گیا اور ۱۳/ نومبر کو بذریعہ خط بھی جو کچھ باتیں بھی ہوئی تھیں ان کو پھر دوبارہ پہنچادیا گیا۔19 نومبر کو سیکرٹری آڈیو ویڈیو نے پھر یاد دہانی کرائی اور اس کے ساتھ ویڈیو اور آڈیو کیسٹ بھجوا دیے۔اب یہ ویڈیو اور آڈیو کیسٹ وہاں کی جماعت نے از خود جیسا کہ ہدایت دی تھی تیار کئے۔ان کو پھر Multiply کیا ہے، اس کو بڑھایا ہے اور بعض جماعتیں اب ان کا یہاں نام لینا مناسب نہیں کیونکہ ساری دنیا میں ان کی ہوگی، ان کے امیر صاحب نے لکھا ہے کہ ہمیں ویڈ یو تو بھیجو جس کا ہم ترجمہ کریں۔معلوم ہوتا ہے وہ دیکھتے ہی نہیں ہیں ، خطبے بھی نہیں سنتے اور قریب کی جماعت ہے کوئی ہمارے آس پاس کی کہ میں نے تو لکھا تھا ہمیں ویڈیو نہیں بھیجی۔میں نے کہا ان کو سمجھاؤ کہ