خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 124
خطبات طاہر جلد 14 124 خطبہ جمعہ 17 فروری 1995ء آپ کولکھا کیا، بار بار سمجھایا تھا کہ آج کے بعد جب سے MTA کا نظام عالمگیر ہوا ہے کوئی ویڈیو نہیں بھیجی جائے گی۔آپ کو بجٹ مہیا کر دیئے گئے ہیں، آپ سامان خریدیں، اپنی ٹیمیں بنا ئیں اور وہاں ریکارڈ کریں۔تو یہ بہانہ ہے ایک نفس کا کہ اپنے گلے سے اتار کر مرکز پر بات پھینکی اور پھر جو بھیجی گئیں ان کا بھی پتا نہیں ان کو ایک تو میں گواہ ہوں، وہاں مانگی جب ویڈیو وقت کے اوپر، کہ جی ہے ہی نہیں ہمارے پاس۔پھر ایک نوجوان بولا کہ جی پڑی ہوئی ہے فلاں جگہ کونے میں میں نے دیکھی تھی۔وہ منگوائی تو وہ ویڈیونکل آئی۔تو یہ بھی کچھ پتا نہیں کہ ویڈیو ہیں بھی کہ نہیں ہیں، کیا ہورہا ہے۔اس لئے ان سے تو میں نے انتظام کھینچ ہی لیا ہے۔اللہ کے فضل سے اس زبان کی اور جماعتیں موجود ہیں دنیا میں ، میں نے ان سے کہا ہے کہ ان سے اب کوئی کام نہیں لینا بلکہ اور دنیا میں جو جماعتیں ہیں یہی زبان بولنے والی وہ مخلص ہیں مستعد ہیں اور انشاء اللہ وہ اس بوجھ کو خود اٹھالیں گی۔تو بعض دفعہ اتنا افسوسناک اظہار ہوتا ہے کہ سزا اس کے سوا کچھ نہیں ہوسکتی کہ ان سے کام کی سعادت کو واپس لے لیا جائے۔مگر بعض جماعتیں ہیں میں نے بتایا ہے وہ سعادت مند ہیں، بے حد مستعد ہیں، کہیں کوئی ایک آدھ ٹیم غلطی سے ایسی ہے جو رستے میں حائل ہوئی ہے تو ان کو بدل دیا جائے تو انشاء اللہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔یہ ہالینڈ کی جماعت میں بتا رہا ہوں کبھی بھی اس لحاظ سے انہوں نے شکوے کا موقع نہیں دیا۔جو سنتے ہیں سمجھتے ہیں، اس کے مطابق فورا عمل کی کوشش کرتے ہیں۔اب تک جو کہتے ہیں ہومیو پیتھک کلاسز کے لئے ہم نے الگ بنادی ہے ، زبانوں کے لئے الگ ہیں ٹیمیں، اور قرآن کلاسز کی الگ ٹیمیں ہیں اور یہاں اس کا ذکر باقی جگہ اس لئے نہیں کہ یاددہانی میں یہاں سے نہیں لکھا گیا تھا مگر خطبات اور Question/Answer کو بھی شامل کریں ان کی بھی الگ مستقل ٹیمیں بنانے کی ضرورت ہے۔کہتے ہیں زبان سیکھنے کی کلاسز عبدالحمید درفیلڈن کے سپرد ہیں اور وہ اللہ کے فضل سے 12 کلاسز کے ترجمے کر چکے ہیں اور بڑی مستعدی سے کام کر رہے ہیں۔مگر زبان کے متعلق میں یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ باقی جو پروگرام ہیں ان میں ایک آدمی کی آواز کافی ہے خواہ وہ مرد ہو اور اگر مرد نہ ہو تو عورت لیکن ایک آدمی کی آواز میں آپ قرآن کریم کی کلاس کا ترجمہ کر لیں یا ہو میو پیتھی کا ترجمہ کر لیں۔یہ کوئی مضائقے کی بات نہیں لیکن زبان کی کلاس