خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 122
خطبات طاہر جلد 14 122 خطبہ جمعہ 17 فروری 1995ء کہہ کر جب ترجمہ ہوتا ہے تو پھر آگے بڑھتا ہوں۔جرمن زبان میں جو ہوئے ہیں وہ بھی اس لئے اچھے ہوئے کہ وہاں بھی یہی طریق تھا کہ کچھ بات کہی جواب دیا، رک گیا، پھر اگلا سوال شروع ہوا، اس کا ترجمہ ہو گیا پھر جواب دیا گیا، پھر رک گیا یہاں تک کہ ترجمہ ہو گیا تو وہ معیاری ترجمے ہیں لیکن وہ صرف جرمن میں ہی ہیں جہاں تیار ہوئے ہیں یا انگریزی میں ہیں۔ان کے معیاری ترجمے دوسری زبانوں میں بھی تو ہونے ضروری ہیں اور جب تک وہ ہوں گے نہیں دوسری زبانوں والے ان سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔بعض خطوں میں لکھتے ہیں یہ سوال اٹھایا گیا، یہ اعتراض اٹھایا گیا اور شاذ ہی کوئی ایسا ہو جو نیا ہو ورنہ ہر ایک کا جواب کسی نہ کسی مجلس میں آچکا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جن لوگوں نے سوال کئے ان کے چہرے بتارہے تھے ان کے چہروں کی حرکتیں اور آثار بتاتے تھے کہ مطمئن ہوئے ہیں۔تو اگر وہ مطمئن ہو سکتے ہیں جو سوال کر رہے ہیں تو دوسرے بھی انشاء اللہ مطمئن ہوں گے مگر اس کے ترجمے تو کرو۔ان کے ترجمے مختلف زبانوں میں کرنا صرف یہی کافی نہیں بلکہ ان کے ترجمے ویڈیوز میں اس طرح بھرنا کہ بولنے والے کے انداز اور اس کے فقروں کے ساتھ جس حد تک ممکن ہو مطابقت کریں۔یعنی یہ اس لئے ضروری ہے کہ اس کے بغیر پھر اثر پھیکا پڑ جاتا ہے اور انسان تعجب سے دیکھتا ہے کہ یہ کچھ اور ادھر شروع کر دی اس نے۔یہ بات کسی اور طرف کا رخ لئے ہوئے ہے۔یہ کام ہے جس کے لئے ٹیمیں بنانے کی ضرورت ہے اور میں سمجھتا ہوں اکثر زبانوں میں ہمارے پاس اب اللہ کے فضل سے اہم زبانوں میں صلاحیت پیدا ہو چکی ہے۔جہاں نہیں ہے وہاں ایک زبان کی مدد سے دوسری زبان میں اچھے ترجمے کئے جاسکتے ہیں۔مثلاً اگر جرمن ٹیمیں مستعد ہوں تو وہ ہمارے لئے بوسنین میں بھی بہت سہولت پیدا کر دیں گی اور البانین میں بھی کیونکہ جرمن میں کثرت سے ایسے مخلص بوسنین اور البانین احمدی ہیں جن کو جرمن پر عبور حاصل ہے اور وہ پھر اپنی زبان سے، وہ اور ان کے خاندان مل کر جرمن زبان سے اپنی زبان میں ترجمے کر سکتے ہیں۔تو وہ لوگ جنہوں نے اس میں غفلت کی ہے وہ اندازہ کریں وہ کس طرح بعض بڑی بڑی قوموں کے رستے میں حائل ہو کے بیٹھے ہوئے ہیں جو فیض پہنچ سکتا تھا وہ نہیں پہنچ رہا۔چھوٹی جماعتوں میں جو بہت ہی مستعد اور فوراً انکسار کے ساتھ لبیک کہہ کر خدمت کرنے