خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 104 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 104

خطبات طاہر جلد 14 104 خطبہ جمعہ 10 فروری 1995ء تو سکھائے۔روزمرہ کے ملنے جلنے اٹھنے بیٹھنے صحت کے آداب۔پس یہ مطلب اس حدیث کا نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ صرف دین سکھانے آئے تھے۔وہ یہ حدیث ظاہر کرتی ہے کہ علم کے لحاظ سے گنجائش موجود ہے وہ جو خدا سے سیکھتا ہے وہ بھی ایک طالب علم ہی رہتا ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ نے جب یہ کہا تو یہ انکساری کی انتہا تھی ورنہ فن حرب آپ نے سکھایا، فن کلام سکھایا، کون کون سے دنیا کے علوم تھے جو نہیں سکھائے۔طبابت سکھائی اور بہت ہی عظیم رسول مہے تھے کہ جن کا دائرہ فیض ہر انسانی ضرورت کے دائرے پر پھیلا ہوا تھا۔پس بعض دفعہ علماء یہ حدیث پیش کر کے کہتے ہیں دیکھو رسول اللہ ﷺ کو زراعت کا علم نہیں تھا۔یہ غلط ہے۔زراعت کا ویسے تو علم نہیں تھا مگر اصول زراعت اور جو اس کی بنیادی باتیں ہیں ،وہ آنحضرت ﷺ نے بیان فرمائے اور قرآن کریم میں درج تھے اور آپ نے بیان فرمانے ہی تھے۔زراعت کے وہ امور جو بنیادی اصولوں کے طور پر ہماری راہنمائی کرتے ہیں قرآن میں موجود ہیں اور آنحضرت ﷺ کی نصیحتیں اس تعلق میں ہمیشہ ایک جاری فیض کا دریا بنی رہیں گی۔پس علم حاصل کرنا اور علم حاصل کرنے سے نہ شرمانا اور علم کے حصول پر زور دینا اور علم سکھانے پر زور دینا اس لئے ہماری زندگی کا ایک اٹوٹ حصہ ہے کہ ہمارے آقا و مولا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا ایک اٹوٹ حصہ تھا۔آپ کے مقاصد کا ایک کبھی الگ نہ ہونے والا حصہ تھا جو ساری زندگی ایسا فرض تھا جو ہمیشہ آپ نے ادا فر مایا اور بہترین طریق پر ادا فرمایا ہے۔پس اس ضمن میں آپ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ جو چند باتیں ٹیلی ویژن کے ذریعہ یعنی چند علوم سے تعلق رکھنے والی باتیں جو ٹیلی ویژن کے ذریعے سکھانے کی کوشش کی جارہی ہے اس ضمن میں میں سمجھتا ہوں کہ جماعت کو ایک دفعہ پھر یاد دہانی کی ضرورت ہے کہ وہ ان باتوں کو ہلکا پھلکا نہ سمجھیں۔بہت ہی اہم چیزیں ہیں اور انقلابی فوائد رکھتی ہیں اور اگر آپ ان کو عام کریں گے اور سنجیدگی سے نصیحتوں پر عمل کریں گے اور ان معاملات میں میرے مددگار ثابت ہوں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کو جو اجر دنیا اور آخرت میں دے گا وہ تو الگ ہے لیکن یہ فیض جو جو لوگ بھی اٹھائیں گے، جو آپ کی وساطت سے یا ئیں گے ، ان کا فیض پانا بھی آپ ہی کی طرف منسوب ہوتا چلا جائے گا، اس میں سے آپ کو بھی حصہ ملتا چلا جائے گا۔پس سنجیدگی سے ان نصائح پر عمل کریں۔ابھی تک مجھے یہ شکوہ ہے