خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 105
خطبات طاہر جلد 14 105 خطبہ جمعہ 10 فروری 1995ء صلى الله کہ وہ لوگ جن کی ذمہ داری یہ تھی وہ بات سمجھ نہ سکے ورنہ عموماً تو جماعت ہمیشہ بہت خلوص کے ساتھ اور بڑی مستعدی سے لبیک کہتی ہے۔پس میں یہ حسن ظن رکھتا ہوں کہ وہ کچھ لوگ بات سمجھ نہیں سکے اور جس طرح طریق کو منظم کرنا چاہئے تھاوہ نہیں کیا گیا۔آنحضرت ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا تم جنت کے باغوں میں سے گز رو تو خوب چرو۔صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ریاض الجنتہ ہوتا کیا ہے آپ نے فرمایا علمی مجالس۔(الترغیب و الترهيب باب الترغیب فی مجالستہ العلماء)۔یعنی ان میں بیٹھو اور خوب چرو جس طرح تر و تازہ گھاس میں جانور چرتے ہیں اسی طرح تم بھی چرا کرو۔پھر حصول علم کے تعلق میں جو ٹھوکریں لگ سکتی ہیں جو خطرات ہیں ان کی بھی نشاندہی فرمائی۔اب بتا ئیں کون سا ایسا حصہ ہے، علم کا ایسا حصہ جس کو رسول اللہ ﷺ نے بیان نہ فرمایا ہو۔تمام انبیا ء نے مل کر اپنی امتوں پر جتنی محنت فرمائی ہے جو ہمارے پاس ریکا رڈ پہنچا ہے اس ریکارڈ کی رو سے میں کہتا ہوں جو ان کی باتیں نہیں بیان ہوئیں اللہ بہتر جانتا ہے مگر جور ریکارڈ ہم تک پہنچا ہے، تمام انبیاء کا اپنی امت کی خدمت کرنا ایک طرف رکھ دیں اور حضرت محمد مصطفی اللہ نے جس جان کا ہی سے اپنی امت کی خدمت فرمائی ہے وہ ایک طرف تو محمد رسول اللہ کا پلڑا بہت ہی بھاری رہے گا۔کوئی نسبت ہی نہیں رہتی۔اتنی تفصیل ملتی ہے اس معاملے میں کہ آنحضرت ﷺ نے اپنی امت کے لئے ان کے علم بڑھانے علم سکھانے ، حکمت سکھا نے ، تربیت کرنے وغیرہ وغیرہ پر جتنا زور دیا جس تفصیل سے جس باریکی سے تمام ضروری مطالب کو کھول کھول بیان فرمایا۔اس کی کوئی مثال کسی دنیا کے نبی کی روایات میں خواہ کچی روایات ہی ہوں وہ بھی اکٹھی کر لیں ان میں بھی نہیں ملے گی۔مبالغے والی روایات میں بھی وہ مثال نہیں ملتی جو آنحضرت عہ کے سلسلے میں مستند روایات سے ہمیں آنحضور کی محنت کا علم ہوتا ہے۔فرمایا ! تم علم اس غرض سے حاصل نہ کرو کہ اس کے ذریعے دوسرے علماء کے مقابلے میں فخر کر سکو علم اس غرض سے نہیں ہے کہ تم تفاخر کے لئے استعمال کرو نہ اس لئے حاصل کرو کہ اس کے ذریعہ جہلا میں اپنی بڑائی اور اکٹر دکھا سکو کہ بیٹھو جہلاء میں باتیں کرو کہ جی مجھے یہ آتا ہے اور تمہیں یہ نہیں آتا۔یہ سب لغو باتیں ہیں اور نا پسندیدہ باتیں ہیں۔جھگڑے کی طرح نہ ڈالو اور نہ اس علم کی بنا پر اپنی شہرت اور نام و نمود کے لئے مجلسیں جماؤ۔جو شخص ایسا کرے گا یا ایسا سوچے گا اس کے لئے آگ