خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 99 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 99

خطبات طاہر جلد 14 99 99 خطبہ جمعہ 10 فروری 1995ء انگلستان میں بھی یہ بحث اب بہت زور سے اٹھائی جارہی ہے کہ ہمارے طالب علم اپنے استادوں کی عزت نہیں کرتے ، ان کا احترام نہیں کرتے ، ان کا کوئی ادب ان کے دل میں نہیں۔نتیجہ اب وہ گستاخ اور بدتمیز ہو چکے ہیں بلکہ بعض استادوں پر حملے کرتے ہیں اور ان استادوں کو کوئی تحفظ نہیں ہے نتیجہ استادوں کے دل میں بھی علم سکھانے کا شوق باقی نہیں رہا۔کہاں یہ کہ وہ جان ڈال کر ایسا کیا کرتے تھے اور اب کہتے ہیں ٹھیک ہے جس نے سیکھنا ہے سیکھے باقی جائیں جہنم میں، جو مرضی کریں۔پس علم کو گہرا نقصان پہنچتا ہے اگر طالب علم تعلیم دینے والے کی عزت نہ کرے۔ہندوستان میں کسی زمانے میں یہ خوبی بہت تھی کہ استاد کی گہری عزت پائی جاتی تھی اور محاورہ ” زانوئے ادب تہہ کرنا یہ بھی اس بات کی نشان دہی کرتا ہے۔کہ ادب سے گھٹنے ٹیک کر، زمین پر لگا کر تہ کر کے بیٹھا کرتے تھے لیکن پھر رفتہ رفتہ یہ چیزیں اٹھنی شروع ہو گئیں۔آج سے بہت پہلے یہ تنزل شروع ہوا ہے اور اکبرالہ آبادی نے اس مضمون کو یوں باندھا ہے: دن وہ بھی تھے کہ خدمت استاد کے عوض دل چاہتا تھا ہدیہ دل پیش کیجئے ایسا بھی زمانہ تھا کہ جب استاد ہماری خدمت کیا کرتا تھا کہ دل سے یہ آواز اٹھا کرتی تھی کہ اتنے عظیم محسن کے لئے تو ہدیہ دل پیش ہونا چاہئے۔بدلا زمانہ ایسا کہ لڑکا کہا ہے ماسٹر سے کہ بل پیش کیجئے اب زمانہ ایسا بدل گیا ہے کہ سبق کے بعد لڑکا کہتا ہے ” کہتا ہے ماسٹر سے کہ بل پیش کیجئے“ جو بھی تم نے کرنا تھا کر لیا اب پیسے مانگو اور جاؤ چھٹی کرو اور یہ بل پیش کرنا ہے، یہ بھی دراصل دونوں طرف کے انحطاط کا منظر پیش کرتا ہے کیونکہ عموماً جب تعلیم کے ساتھ اجرت لگ جائے اور تعلیم کا جذبہ اور شوق اسا تذہ کو لوگوں کو تعلیم دینے پر آمادہ نہ کرے اس پر اکسائے نہیں بلکہ محض ٹیوشن کی طلب ہو تو پھر لازما یہی ہوگا کہ پیسوں کی خاطر تم پڑھاتے تھے لو پیسے لو اور چھٹی کرو۔تو آنحضرت ﷺ نے قرآنی تعلیم کے پیش نظر آیات کو نہ بیچنے کا ایک یہ بھی مفہوم سمجھا ہے کہ قرآن کی تعلیم جہاں تک ممکن ہے وہ بغیر معاوضے کے ہو ، اس شوق میں ہو کہ قرآن پڑھا یا جا رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے