خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 98 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 98

خطبات طاہر جلد 14 98 خطبہ جمعہ 10 فروری 1995ء اب یہاں بھی ہمیں اساتذہ کی جو ضرورت ہے اس کا رستہ بھی وہی تجویز فرمایا جو پہلی حدیث میں بیان کیا ہے۔فرمایا ہے مسلمان پر فرض ہے کہ وہ علم سیکھے پھر سکھائے۔یعنی استاد بننے کے لئے بھی ذمہ داری طالب علم پر ہے۔وہ پہلے علم سیکھے اور پھر آگے اس کو جاری کرے اور اپنے بھائیوں میں اس طرح علم کی ترویج کرے۔پھر حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ فرماتے ہیں یہ الترغیب والترہیب سے حدیث لی گئی ہے۔صلى الله عن ابي هریره رضی الله عنه قال قال رسول الله علم تعلموا العلم اتعلمو اللعلم السكينت والوقارو تواضعو المن تعلمون منه۔(الترغيب والترہیب باب الترغیب فی اکرام العلماء) که علم حاصل کرو اور وقار اور سکینت کو اپناؤ۔وقار سے مراد علم سے متعلق ایسا رویہ اختیار کرنا ہے کہ علم کی تم قدر کرتے ہو، اس کی عظمت کو پہچانتے ہو اور ہلکی پھلکی بات کے طور پر نہیں لیتے بلکہ پورا وزن دیتے ہو اس بات کو ، اس کو وقار کہتے ہیں۔وقر ، ویسے وزن کو کہتے ہیں اور بوجھ کو بھی کہتے ہیں مگر و قار لفظ ہمیشہ اعلیٰ معنوں میں عظمت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔مراد یہ ہے کہ علم کی توقیر کرو۔اسے بلند مرتبہ سمجھو اور پھر علم حاصل کرو اور سکینت کو اپناؤ۔سکینت افرا تفری کے علم حاصل کرنے والے پر چسپاں نہیں ہوتا۔لفظ سکینت۔آیا بیٹھا بے چین ہوا کچھ حاصل کیا بھاگ گیا۔اس کو سکینت کا علم نہیں کہتے۔علم سیکھنے کے لئے جہاں علم کا وقار اور اس کی عظمت کا دل میں جاگزین ہونا ضروری ہے وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ سیکھنے والا تسکین سے تسلی سے سیکھے اور اس کو کہیں اور جانے کی افرا تفری نہ ہو بلکہ وہاں جسم کے سمجھے کہ ہاں مجھے یہیں لطف آ رہا ہے اور یہی میرے وقت کا بہترین مصرف ہے۔اس کے بغیر لفظ تسکین اس طالب علم پر چسپاں نہیں ہوسکتا جو آیا گیا، سرسری نظر سے دیکھا، کچھ ملا تو ٹھیک، نہ ملا تو واپس۔پھر فرمایاوتو اضعو المن تعلمون منہ اور جن سے تم علم سیکھتے ہو ان سے بھی انکسار کا معاملہ کرو۔ان سے ادب اور احترام کا معاملہ کرو کیونکہ اس سے علم پڑھانے والے کو علم سکھانے والے کو بھی تقویت نصیب ہوتی ہے اور علم کا مرتبہ بڑھتا ہے۔یہ جو علم سکھانے والے کے ساتھ عزت واحترام کا معاملہ ہے، یہ محض دینی علم سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ دنیا کے تمام علوم سے تعلق رکھتا ہے اور دنیا کی تمام قومیں جہاں علم پڑھانے والوں کا وقار اٹھ گیا، جہاں ان کا احترام باقی نہیں رہا ان کے ہاں علمی معیار ہمیشہ تنزل اختیار کر گیا ہے اور آج