خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 976 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 976

خطبات طاہر جلد 13 976 خطبہ جمعہ فرمودہ 23 دسمبر 1994ء اب ملک کے پروگرام ہیں اس میں مختلف ممالک کے نظارے دکھا ئیں مختلف لوگوں کو ان کے انٹرویو لینے چاہئیں۔ایک شخص ہے جو عمومی تقریر کرتا ہے پس منظر سے مثلاً ایک ملک کا عمومی تعارف کراتا ہے کہ فلاں زمانے میں اس ملک کا آغاز ہوا اس طرح اس میں تبدیلیاں پیدا ہوئیں ، ایسی ایسی قومیں حملہ آور ہوئیں اور ان کے نتائج کیا نکلے؟ یہ ایک پروگرام کی کڑی ہے جو بہت دلچسپ ہے۔اب وقت چونکہ کم ہے ، میں تفصیل نہیں بیان کر سکتا لیکن ذہن میں میرے اس کو بڑھا کر، پھیلا کر اور مختلف شکلیں دینے کا پروگرام موجود ہے۔پھر دوسرا پہلو ہے جغرافیائی۔قوم کا اس کا جغرافیہ کیا ہے؟ جغرافیہ میں مختلف خوبصورت جو نظارے ہیں، جھیلیں ہیں ، دریا ہیں ، وہ سارے آئیں گے اور اس کے علاوہ معدنیات ہیں اور پھر جغرافیہ پہ یہ گفتگو بھی آسکتی ہے جو تاریخی جغرافیہ سے تعلق رکھتی ہے کہ اس کا جغرافیہ بدلتا رہا ہے کسی زمانے میں اس کا جغرافیہ یہ تھا آج اس کا یہ جغرافیہ ہے۔حدود اربعہ تبدیل ہوا ہے تو کیوں ہوا ہے۔اور پھر قو میں کون کون سی آباد ہیں۔ان قوموں کی تاریخ کیا ہے؟ ان کا مزاج ، ان کے بولنے کی طرز، ان کی گفتگو کیا صرف تلفظ کا اختلاف رکھتی ہے یا زبانوں کا بھی اختلاف۔مثلاً انگلستان کے حوالے سے آئر لینڈ کا ایک تعارف ہے۔آئرش قوم کا تعارف ہے وہ UK کے اندر داخل کر کے جو شمالی آئر لینڈ ہے اس کو بیان کیا جاسکتا ہے۔تو ویلز ہے ، سکاٹ لینڈ ہے۔پھر ان کی روایات۔یہ درست ہے کہ آپ گانے اور نغمے وغیرہ اور میوزک وغیرہ کے قائل نہیں مگر وہ جو خاص وقت رات کو مارچ پریڈ کرتے ہیں، شام کو قلعہ میں اور وہ خاص قسم کی ان کی سکرٹس ہوتی ہیں پہنی ہوئی جو مرد بھی پہنتے ہیں تو وہ سکائش کلچر ہے اس کے اوپر سے ایک سرسری نظر ڈال کر لوگوں کو بتانا کہ یہ ہوتا ہے قطعاً اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔سارا دن دوسرے پروگرام آپ دیکھتے رہتے ہیں وہ کیا کیا دیکھتے رہتے ہیں وہاں۔ہم ویسے تو نہیں بن سکتے مگر جو ایک قومی حالت ہے جو بداخلاقی کا مظہر نہیں بلکہ روایات سے تعلق رکھتی ہے اس پر اچٹتی ہوئی نظر ڈال لینا کوئی گناہ نہیں ہے اور MTA اتنے حصے کو اسی طرح پیش کرے کہ یہ حقائق ہیں لیکن حقائق میں بعض جگہ آپ کے قدم رک جائیں گے۔اگر حقائق یہ ہوں کہ ڈانس ہورہے ہیں ، نائٹ کلب ہے تو وہاں جا کر MTA کے قدم رک جائیں گے آپ کہہ سکتے ہیں کہ حقائق اور بھی ہیں یہ یہ بھی ہیں لیکن ہم وہاں قدم نہیں رکھ سکتے۔تو عقل کے ساتھ اگر ایسے پروگرام بنا ئیں تو مذہبی حدود