خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 975 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 975

خطبات طاہر جلد 13 975 خطبہ جمعہ فرمود و 23 دسمبر 1994ء اس کے مطابق کچھ بنا ئیں اور اتنا بنا ئیں کہ اس میں سے ہم پھر یہاں چن کر نئے پروگرام بناسکتے ہوں۔لیکن جو پروگرام جرمنی میں بنے ہیں یا ناروے میں بنتے ہیں یا جاپان میں بنتے ہیں یا پاکستان کے مختلف حصوں میں یا ہندوستان یا افریقہ میں وہ تو وہیں بن سکتے ہیں یہاں تو نہیں بن سکتے اور وجہ اس کی یہ ہے میں بتاتا ہوں مثلاً ہمیں جو مرکزی تعلیمی پروگرام ہے وہ تو بہر حال جاری رکھنے ہوں گے اس کا بڑا بوجھ نہیں رہے گا کیونکہ مجبوری یہ ہے کہ مجھے اپنی نگرانی میں وہ کرنے پڑیں گے اور جب تک وہ ایک مکمل کورس کی شکل اختیار نہ کر چکے ہوں اس وقت تک ان کا لا ز م یہاں میری نگرانی میں بننا اور جاری رہنا ایسا امر ہے کہ ہم نظر انداز نہیں کر سکتے لیکن ان کے علاوہ جو پروگرام ہیں ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جو یہاں بن ہی نہیں سکتے ، نہ ہمارے پاس ذرائع ہیں، نہ لکی حالات ایسے ہیں۔اب جو جرمن زبان کے پروگرام ہیں وہ جرمنی میں ہی بنیں گے، جوفرانسیسی یا سپینش یا نارویجن پروگرام ہیں وہ وہیں بن سکتے ہیں، اس لئے ہم چاہیں بھی تو وہ بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔اس کے علاوہ ملکی حالات ہیں۔میں اب مثالیں دیتا ہوں آپ کو کہ سب سے پہلے ملک کے متعلق پروگرام ہیں ملک کا آغاز کیسے ہوا۔کیسے وہ ملک بنا، کب تک اس کی تاریخ ممتد ہے، قدرتی وسائل کیا ہیں وہاں کی آبادی کیسی ہے یا کتنی ہے اور طرز بود و باش کیا ہے۔طبعی عادات اور مزاج اور روایتی طور پر قوم کے کیا انداز ہیں یہ ایک پروگرام کی کڑی ہے جو ہر ملک میں بن سکتی ہے اور اس کو اس طرح نہیں بنانا کہ ایک تقریر شروع ہو جائے۔بہت سے پروگرام بنانے کے لئے کہا تو با قاعدہ میزیں لگیں، اس کے اوپر کپڑا بچھایا گیا پھرٹو پیاں پہن کے سارے آگئے پھر وہاں با قاعدہ جلسے کی شکل بنی اور اعلانات ہوئے۔یہ پروگرام نہیں ہیں جو یہاں چلیں گے۔جب جلسہ ہو رہا ہوگا تو وہی ہوگا جیسے ہو رہا ہے اس میں کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں۔جیسے ہو رہا ہے ویسے ہی ہوگا لیکن جلسوں کا تو کہا ہی نہیں گیا، کافی جلسے ہو چکے ہیں اور ہوتے رہیں گے انشاء اللہ۔جب ہم جلسہ دیکھنا چاہتے ہیں تو جلسہ کا مزاج قائم کر کے دیکھتے ہیں۔جب تنوع کا پروگرام دیکھیں اور وہاں جلسہ شروع ہو جائے یا مشاعرہ دیکھ رہے ہیں تو وہاں جلسہ شروع ہو جائے تو طبیعت اس سے گھبراتی ہے۔تو جلسوں کے حوصلے بھی ہیں دلچسپیاں بھی ہیں جماعت میں لیکن ہر چیز کا جلسہ ہی بنادیں یہ تو ہوٹل کے کھانے والی بات ہو جائے گی وہاں مرغا پکے یا دال گوبھی مزہ سب کا ایک ہی ہوتا تھا۔تو تنوع کی بات میں کر رہا ہوں ، مزے بدلیں اور جس قسم کا پروگرام ہے ویسی ہی اس میں صورت پیدا کریں۔