خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 977
خطبات طاہر جلد 13 977 خطبه جمعه فرموده 23 دسمبر 1994ء کو قائم رکھتے ہوئے بھی معاشرے کی تصویریں اور تہذیب و تمدن کی تصویریں کھینچی جاسکتی ہیں اور پھر وہاں کی انڈسٹری ، وہاں کی اقتصادیات ،تجارتیں کہاں کہاں سے ہورہی ہیں، کتنے بڑے بڑے تجارتی مرکز ہیں۔اب تجارت کی بات کریں گے تو بہت سی ایسی باتیں بھی آپ ملک کے حوالے سے بیان کریں گے جسے سننے والے دنیا کے مختلف تاجر کئی قسم کے ارادے باندھ لیں گے۔ان کو پہلے خیال بھی نہیں آیا ہوگا کہ ہم اس معاملے میں بھی خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ حصہ لے کر اپنی اقتصادی حالت کو بہتر بنا سکتے ہیں مگر یہ پروگرام ان کے ذہن میں نئی نئی لہریں پیدا کریں گے۔نئی نئی کھڑکیاں کھولیں گے سوچ کی۔تو یہ بھی بتایا جا سکتا ہے کس طرح ہوتی ہے، کیا تجارت ہوتی ہے ، درآمد کیا کیا ہوتی ہے، برآمد کیا کیا ہوتی ہے۔اب یہ بھی تقریر نہیں کرنی بلکہ انداز وہ ہے جو ٹیلی ویژن کو دلچسپ بنانے کا انداز ہوتا ہے۔یہاں کی جو پورٹس ہیں اس پر بڑے بڑے سامان لوڈ ہورہے ہیں اور جہاز لوڈ ہور ہے ہیں ، ہوائی جہازوں کی پورٹس کے اوپر وہاں سے سامان اتر رہے ہیں اور اس طرح جا رہے ہیں۔مارکیٹ ،منڈیاں لگی ہوئی ہیں، یہ نظارے دکھا دکھا کر آپ یہ تقریریں پس منظر میں کر سکتے ہیں لیکن با قاعدہ اچکن پہن کر اور باقاعدہ بٹن بند کر کے تقریر کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔وہ بہت اچھا لگتا ہے مگر اپنے محل پر ہو تو اس پروگرام کو بھی تقریری پروگرام نہیں بنانا مگر واقعاتی پروگرام بنانا ہے جس میں تقریر کا پہلو بعض دفعہ ایسی آواز کی صورت میں رہتا ہے جس کا بولنے والا نظر بھی نہیں آرہا ہوتا اور بہت اچھا لگتا ہے۔اس کی آواز میں ایک وقار ہوتا ہے ایک خاص طرز ہے تو یہ طرزیں جو اچھی ہیں یہ ان سے سیکھنا منع تو نہیں ہے۔ان چیزوں میں ان کی طرز میں اختیار کریں لیکن وہاں بھی یادرکھیں کہ جہاں تکلف آجائے ، جہاں پیسہ خرچ کرنا پڑے جہاں غریبانہ پروگرام اجازت ہی نہ دے کہ ان کی طرز کو اختیار کیا جا سکے وہاں قدم روک لیں۔ما انا من المتکلفین کی تعلیم پر عمل کریں، بغیر تکلف کے جو کچھ میسر ہے، جوتوفیق ہے اس کو پیش کریں لیکن اچھے طریقے سے۔جس طرح میں نے کھانے کا نیا پروگرام جاری کروایا ہے وہاں خواتین کے ذریعے غریبانہ کھانے پکانے سکھانے کا پروگرام تھا اس کے افتتاحی پروگرام میں خود شامل ہوا۔میں نے بتایا کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ آپ لوگ تکلف کر کے اپنی توفیق سے بڑھ کر کھا ئیں لیکن یہ کہتے ہیں کہ آپ کی توفیق میں جو کچھ ہے اس میں اللہ کے شکر کا حق اس طرح بھی ادا کریں کہ ایسے اچھے طریقے پر کھائیں کہ