خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 993
خطبات طاہر جلد 13 993 خطبه جمعه فرمودہ 30 دسمبر 1994ء صلى الله ہو جاتی ہے۔پس آنحضرت ﷺ سے جو وعدہ ہے، وہ ہر اس شخص کی ذات میں پورا نہیں ہوگا جوان صفات میں جو ایسی نصیحت کے لئے ضروری ہیں حضور اکرم ﷺ کی سنت کی پیروی نہیں کر رہا۔پس ادنی سوچ کے ساتھ ، ایک سرسری فکر کے ساتھ جب آپ قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں تو بسا اوقات دل میں اعتراض اٹھتے ہیں کہ یہ اللہ نے کیا کہہ دیا ہے، فَذَكِّرُ إِنْ نَفَعَتِ الذِّكْرُى ہم تو نصیحتیں کرتے ہیں ہمارے بچوں پر بھی کوئی اثر نہیں ہوتا۔تو یہ کیا قانون ہے کہ نصیحت کر ضرور اثر ہوگا ؟ آنحضرت ﷺ کی نصیحت ضرور اثر کرتی تھی اب یہ الگ مسئلہ ہے کہ بعض دفعہ وہ نصیحت کا اثر فورا دکھائی دینے لگتا ہے بعض دفعہ دلوں میں کچھ تحریکات پیدا کر دیتا ہے جن کے پوری طرح پینے اور اپنے اندرونی لحاظ سے پختگی حاصل کرنے میں ایک وقت لگتا ہے لیکن کچھ استعما بھی ہیں۔ان استثات کا بھی اللہ تعالیٰ نے ذکر فرما دیا ہے اور وہ یہ ہیں سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ وَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ خَتَمَ اللهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَ عَلَى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ (البقرہ: 8) کہ اے محمد ! تیری نصیحت اثر تو کرتی ہے اور ضرور کرے گی مگر ان دلوں پر کرے گی جن پر ابھی تالے نہیں پڑے ان دلوں پر پڑے گی جن پر اللہ کی مہر نہیں لگی۔ان پر نصیحت اثر کرے گی جو یہ فیصلہ نہیں کر چکے کہ سَوَآ عَلَيْهِمْ وَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرُهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ کہ فیصلہ ہے ہم نے ایمان نہیں لانا۔ان لوگوں کے لئے تیری نصیحت برابر ہے جنہوں نے ایمان لانا ہی نہیں ان کو چاہے سنائے چاہے نہ سنائے ان کے لئے برابر ہے تو یہ استثناء بھی ہیں مگر ا کا ذکر اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرما دیا ہے۔ان استثمات کو چھوڑ کر یہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی تذکیر ہی تھی آپ کا ذکر کرنا ہی تھا اور آپ کا نصیحت کرنا تھا جس نے دیکھتے دیکھتے عرب کی کایا پلٹ دی، ایک عظیم روحانی انقلاب بر پا ہوا۔پس اس پہلو سے ہمیں بھی آنحضرت ﷺ کی نصیحت کے انداز سیکھنے چاہئیں اور آج کی اس گھڑی میں آپ کو یہ بتا رہا ہوں کہ حضرت رسول اکرمہ کی نصیحت میں جو طاقت پیدا ہوئی ہے میں نے غور سے یہ مضمون بھی سیکھا ہے کہ اس لئے تھی کہ آپ سب سے پہلے مذکر تھے اور اپنے نفس پر آپ کی نصیحت کو پورا غلبہ حاصل تھا۔ایک ایسا قوی غلبہ تھا کہ نفس کی مجال نہیں تھی کہ محمد رسول مے کی اندرونی نصیحت کے خلاف ایک ادنی سی سوچ بھی سوچ سکے۔جب یہ طاقت انسان کو نصیب ہو جاتی